پاکستان کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز میں ناقص کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے کیے گئے بڑے فیصلوں پر قومی ٹیم کے سابق ٹیسٹ ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے سلیکشن پالیسی اور ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
آسٹریلوی اخبار ’کوڈ اسپورٹس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں جیسن گلیسپی نے کہا کہ صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کے پاس ٹیم کے انتخاب کی کوئی منصوبہ بندی نہیں، خاص طور پر عاقب جاوید کے زیر نگرانی فیصلوں میں بار بار تبدیلی نظر آتی ہے۔
جیسن گلیسپی نے عاقب جاوید پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوچز پر انگلی اٹھانے کے بجائے انہیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔
سابق آسٹریلوی بولر کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں عاقب جاوید نے موجودہ صورتحال کا ذمہ دار انہیں اور پاکستان کے سابق وائٹ بال کوچ گیری کرسٹن کو قرار دیا، حالانکہ عاقب جاوید گزشتہ دو سال سے چیئرمین سلیکٹرز ہیں اور ان دونوں کوچز کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں رہا۔
جیسن گلیسپی نے کہا کہ اس کے باوجود کسی نہ کسی طرح انہیں اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے، جس کا کوئی مطلب سمجھ نہیں آتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عاقب جاوید اور کھلاڑیوں کے درمیان رابطے کا فقدان ہے۔ ان کے مطابق جن کھلاڑیوں کو دوبارہ ٹیم میں بلایا گیا، انہیں اپنی واپسی کا علم اہلخانہ، دوستوں اور میڈیا کے ذریعے ہوا، جو ان کے لیے انتہائی بے عزتی کی بات ہے۔
عاقب جاوید نے جیسن گلیسپی کی تنقید پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا، تاہم چند روز قبل جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ گیری کرسٹن اور جیسن گلیسپی دونوں کوچز مطلوبہ وقت پاکستان میں نہیں گزار رہے تھے، جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو تحفظات تھے۔
عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کے کوچ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹیم کو وقت دے اور ملک کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ پوری کرے۔
دوسری جانب پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کی جانب سے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران بڑے پیمانے پر کی جانے والی تبدیلیوں کے دفاع پر آسٹریلوی کرکٹ کمنٹیٹر جم میکسویل نے سخت ردعمل دیا۔
Who is this idiot? Go away….arrogant, ignorant https://t.co/Tlif5sTqBi
— jim maxwell (@jimmaxcricket) September 2, 2026
واضح رہے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے انگلینڈ میں کیے گئے فیصلوں کو ضروری قرار دیا اور تنقید کرنے والوں کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ انہوں نے خود کچھ حاصل نہیں کیا۔
محسن نقوی کے ان ریمارکس پر آسٹریلوی کمنٹیٹر جم میکسویل نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے محسن نقوی کے بیان کو شیئر کرتے ہوئے انہیں ’متکبر اور لاعلم‘ قرار دیا اور ان پر سخت الفاظ میں تنقید کی۔
Sadly Pakistan is corrupt and cricket is a victim of the goons who run the country. Leadership vacuum and the players are the victims https://t.co/uRJ4qHswQK
— jim maxwell (@jimmaxcricket) September 3, 2026
انگلینڈ کے خلاف سیریز میں مسلسل شکست
انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے دونوں میچز میں پاکستان کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے پاکستان کو اننگز اور 103 رنز سے شکست دی، جبکہ لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں انگلینڈ نے 194 رنز سے کامیابی حاصل کرکے سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔
دوسرے ٹیسٹ کے بعد پی سی بی نے برمنگھم ٹیسٹ سے قبل ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں۔
جیسن گلیسپی اورگیری کرسٹن کا دور
جیسن گلیسپی کو 2024 میں دو سالہ معاہدے کے تحت پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا تھا، تاہم وہ تقریباً سات ماہ بعد دسمبر 2024 میں اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔
اس سے قبل جنوبی افریقہ کے سابق اوپننگ بلے باز گیری کرسٹن بھی اکتوبر 2024 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال کوچ کے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔ انہیں اسی سال مئی میں پاکستان ٹیم کا کوچ مقرر کیا گیا تھا۔
دونوں سابق کوچز نے بعدازاں مختلف انٹرویوز میں سلیکشن کے معاملات میں مداخلت اور انہیں آزادانہ طور پر کام نہ کرنے دینے کی شکایات کی تھیں۔


