پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی )کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے لارڈز ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں بیٹنگ نہ کرنے پر قومی ٹیم کے اوپننگ بیٹر امام الحق کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی اور انکوائری کا عندیہ دے دیا۔
نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امام الحق کی انجری ان کے لیے بڑا سوالیہ نشان اور گہری مایوسی کا باعث ہے، ماضی میں کھلاڑی انجری کے باوجود میدان میں اترنے کی کوشش کرتے تھے۔
ساری دنیا میں جگ ہنسائی مگر ذمے داری صرف کھلاڑیوں،کپتان اورکوچ کی؟بورڈ کی کوئی ذمہ داری نہیں ؟دیکھیے عاقب جاوید کا انٹرویو pic.twitter.com/36vNGeZara
— Shahzeb Khanzada (@shazbkhanzdaGEO) September 1, 2026
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ امام الحق نے انجری کا ڈراما کیا، تاہم پٹھے میں کھنچاؤ ایسی وجہ نہیں ہوسکتی کہ کھلاڑی مکمل طور پر دونوں اننگز میں بیٹنگ ہی نہ کرے۔
عاقب جاوید نے کہا کہ امام الحق کو کوشش کرنی چاہیے تھی اور مقابلہ کرنا چاہیے تھا، اس معاملے پر ایکشن لیا جائے گا اور امام الحق کو انکوائری کا سامنا کرنا ہوگا۔
امام الحق کی انجری کا معاملہ ہے کیا؟
قومی ٹیسٹ ٹیم کے اوپنر بلے بازامام الحق لارڈز ٹیسٹ کے دوران بائیں پنڈلی میں معمولی نوعیت کے کھنچاؤ کا شکار ہوئے تھے۔ دوسرے روز کے کھیل سے چند منٹ قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ امام الحق کی بائیں پنڈلی میں انجری ہوئی ہے اور ٹیسٹ کے بقیہ میچ میں ان کی شرکت طبی رائے سے مشروط ہوگی۔
امام الحق نے اس کے بعد ٹیسٹ کے اگلے دو روز میں بیٹنگ نہیں کی، تاہم چوتھے روز صبح وہ دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ وارم اپ کرتے دکھائی دیے۔ اس صورتحال پر سابق انگلش فاسٹ بولر اسٹورٹ براڈ نے بھی تنقید کرتے ہوئے اسے محض دکھاوا قرار دیا تھا، جبکہ ڈیوڈ وارنر نے بھی سوشل میڈیا پر امام الحق کی انجری پر سوال اٹھائے تھے۔
پاکستان اسکواڈ ،کوچنگ اسٹاف میں تبدیلیاں اور مصباح الحق کا استعفیٰ
لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے امام الحق سمیت 7 کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا۔ ان کے علاوہ قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔
سابق کپتان مصباح الحق نے بھی حالیہ اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کے بعد سلیکشن پینل سے استعفیٰ دے دیا۔
تبدیلیوں کی وضاحت
عاقب جاوید نے ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 2 ٹیسٹ میچز کھیلے لیکن ٹیم کسی بھی طرح مقابلہ کرتی نظر نہیں آئی، جبکہ ایک ٹیسٹ ابھی باقی ہے۔ان کے مطابق ٹیم مینجمنٹ کے پاس ایک پیس آل راؤنڈر، دوسرا وکٹ کیپر اور تقریباً 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرنے والا فاسٹ بولر عبید شاہ موجود تھا، لیکن ان کھلاڑیوں کو استعمال کرنے کے فیصلے نہیں کیے گئے۔
عاقب جاوید نے بتایا کہ انہوں نے کپتان بابر اعظم اور کوچ سے عبید شاہ کو ٹیم میں شامل کرنے کا کہا تھا کیونکہ دیگر بولرز محمد عباس، محمد علی اور خرم شہزاد کی رفتار تقریباً ایک جیسی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ٹاپ 7 بیٹرز میں کوئی بھی بولنگ نہیں کرتا، اس لیے ٹیم میں آل راؤنڈر کو شامل کرنا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق ایک ایسا فاسٹ بولر جو 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب رفتار سے گیند کرے، ٹیم کے بولنگ اٹیک کی ساخت تبدیل کرسکتا ہے۔
عاقب جاوید نے سلمان علی آغا کو خراب فارم کی وجہ سے ڈراپ کیے جانے کو سمجھ میں آنے والا فیصلہ قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ محمد رضوان کو بطور وکٹ کیپر کھلانے کے بجائے غازی غوری کو موقع دینا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’کسی کو تو ایکشن لینا تھا، کیونکہ دنیا پاکستان کرکٹ پر ہنس رہی ہے کہ ٹیم مقابلہ بھی نہیں کرپارہی‘۔
عاقب جاوید نے کہا کہ اہم دوروں پر کھلاڑیوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانی چاہیے اور ٹیم کو مقابلہ کرتے ہوئے نظر آنا چاہیے۔ ان کے مطابق واپس بھیجے گئے کھلاڑیوں کو یہی پیغام دیا گیا ہے کہ اہم دوروں پر کھیل میں بھرپور کوشش نظر آنی چاہیے۔
عاقب جاوید نے واضح کیا کہ ان کا استعفیٰ دینے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ مصباح الحق کی طرح عہدہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیم منتخب کرتے وقت کوچ اور کپتان اس اسکواڈ کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن دورے پر جانے کے بعد ہر میچ کے لیے ٹیم کا کمبی نیشن تبدیل کرنے کا اختیار ان کے پاس نہیں ہوتا۔
عاقب جاوید کے مطابق جب کھلاڑیوں کو منتخب کیا گیا تو کسی نے ان کی کارکردگی پر سوال نہیں اٹھایا تھا، تاہم جب کھلاڑی مکمل طور پر فارم سے باہر ہوں اور ٹیم مقابلہ نہ کر رہی ہو تو فیصلے کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔
انہوں نے ٹیم مینجمنٹ کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب درست کمبی نیشن اختیار کرنے کے پیغامات دیے جانے کے باوجود فیصلے نہ کیے جائیں تو یہ مسئلہ بن جاتا ہے، کیونکہ کپتان، ہیڈ کوچ اور ٹیم مینجمنٹ کی اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔
نئے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی حمایت کا اعلان
عاقب جاوید نے پاکستان کے آنے والے ٹیسٹ کے لیے نئے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص ٹیم نہیں چلاتا بلکہ کوچ اور کپتان مل کر ٹیم کو چلاتے ہیں، مائیک ہیسن نے ذمہ داری سنبھالی ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں ہر طرح سے سپورٹ کرنے کی کوشش کرے گا۔
عاقب جاوید نے کہا کہ ایک ہی میچ میں نتیجہ حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے، تاہم لوگوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ پاکستان کرکٹ میں اب بھی ٹیلنٹ موجود ہے۔
عاقب جاوید کی ذمہ داریاں
عاقب جاوید گزشتہ دو برس سے پاکستان کرکٹ بورڈ میں اہم ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔ اس عرصے کے دوران پاکستان ٹیم کے کئی کوچز تبدیل ہوئے، جن میں جیسن گلیسپی اور گیری کرسٹن بھی شامل ہیں۔عاقب جاوید نے کچھ عرصے کے لیے سلیکشن اور ہائی پرفارمنس کی ذمہ داریوں کے ساتھ کوچنگ کا کردار بھی ادا کیا۔
یاد رہے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں شروع ہوگا۔



