یکم اگست 1990 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے قصبہ پٹن میں پیش آنے والے سانحے کو آج 35 برس مکمل ہو گئے۔
بارہمولہ سرینگر شاہراہ پر واقع پٹن میں یکم اگست 1990 کو بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں متعدد نہتے کشمیری شہری جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔
عینی شاہدین کے مطابق بازار میں ایک گاڑی کے ٹائر پھٹنے کی آواز کو جواز بنا کر بھارتی فوجیوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں 12 شہری جاں بحق جبکہ 80 سے زائد افراد زخمی ہوئے، قابض فورسز نے کئی رہائشی مکانات کو بھی آگ لگا دی گئی۔
مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کی گاڑی پر حملہ، 10 ہلاک، 7 زخمی
بیانات کے مطابق 1990 کے موسمِ گرما تک وادیٔ کشمیر میں حقِ خودارادیت کے مطالبے کے حق میں وسیع پیمانے پر عوامی تحریک جاری تھی، اس دوران بھارتی سکیورٹی فورسز نے آرمڈ فورسز اپاورز ایکٹ (AFSPA) کے تحت شہری علاقوں اور تجاری مراکز کو عسکری کنٹرول میں تبدیل کر دیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ پٹن کا سانحہ کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کی علامت بن چکا ہے، اس واقعے کے ذریعے عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اس کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے اور عزم میں مزید اضافہ ہوا۔
پاکستان مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اٹھانے میں کامیاب ہو گیا، وزیر اعلیٰ مقبوضہ کشمیر
گاؤکدل، ہوال اور ہندواڑہ کی طرح پٹن کا قتلِ عام بھی کشمیر کی مزاحمتی تاریخ کا اہم سنگِ میل ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کیلئے”کشمیر بنے گا پاکستان”محض ایک نعرہ نہیں بلکہ پٹن کی شاہراہ پربہنے والے خون سے مضبوط ہونے والا قومی عزم ہے۔
