پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر میں امن و انصاف دیکھنے کے خواہ خواں ہیں اور چاہتے ہیں کہ کشمیر کے وسائل، ووٹ، مستقبل، اور روزگار کی تقسیم کا فیصلہ کشمیر کا نوجوان کرے۔
وہ آزاد جموں و کشمیر الیکشن کی انتخابی مہم کے سلسلے میں یونی ورسٹی کالج گراؤنڈ، مظفرآباد میں جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔
لائیو: پاکستان پیپلز پارٹی کا آزاد جموں و کشمیر کی انتخابی مہم کے سلسلے میں یونیورسٹی کالج گراونڈ، مظفر آباد میں جلسہ عام https://t.co/pvYiZkPCV7
— PPP (@MediaCellPPP) July 30, 2026
مظفرآباد ڈویژن میں انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹنگ 2 اگست کو ہوگی۔ یہ ڈویژن 3 اضلاع مظفرآباد، نیلم، اور ہٹیاں بالا پر مشتمل ہے جبکہ یہاں 9 انتخابی حلقے ہیں۔ ان حلقوں کے ساتھ ساتھ 2 اگست کو مہاجرین مقبوضہ کشمیر کی 12 نشستوں پر بھی پولنگ ہو گی۔
بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وہ کشمیر کو “جنت بے نظیر” بنانا چاہتے ہیں، جہاں امن، انصاف اور خوشحالی ہو، جبکہ کشمیری عوام کو ان کے تمام بنیادی، آئینی اور جمہوری حقوق فراہم کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ہمیشہ کے لیے کشمیری عوام کریں گے اور حقِ حاکمیت کا تقاضا ہے کہ الیکشن شفاف ہوں اور فیصلے بیلٹ سے ہوں، بلٹ سے نہیں۔ “الیکشن میں ووٹ گنے جائیں، لاشیں نہیں۔”
پی ٹی آئی کو اتحاد بنانے کی پیشکش
بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوری سیاست پر یقین رکھتی ہے اور تحریک انصاف کے کارکنوں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ بائیکاٹ کے بجائے سیاسی عمل میں حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بائیکاٹ ہی کرنا ہے تو پھر گھر بیٹھ جائیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کی جانب دوستی اور جمہوری تعاون کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں کیونکہ سیاسی جماعتوں کو جمہوری انداز میں مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی اپنے ووٹ کی طاقت سے اپنے نمائندوں کو منتخب کرائے گی اور کسی کو بھی اپنا الیکشن چوری نہیں کرنے دے گی۔ “ووٹ کی چوری کسی بھی صورت قبول نہیں کی جائے گی، جس کا ووٹ ہو، اقتدار بھی اسی کو ملنا چاہیے، کیونکہ صرف کشمیری عوام کی منتخب حکومت ہی ان کے مسائل حل کر سکتی ہے۔”
الیکشن کمیشن پر ن لیگ کی حمایت کا الزام
انہوں نے آزاد کشمیر الیکشن کمیشن پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن اپنا درست کام نہیں کر رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تو فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا، تاہم انصاف فراہم کرنے میں تاخیر کی جا رہی ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن بتائے نوٹیفکیشن جاری کرنے میں اتنی جلدی اور انصاف دینے میں اتنی تاخیر کیوں ہے، اور کیا وہ صرف ن لیگ کی خدمت کے لیے ہے؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ 2 اگست سے قبل پولنگ سے متعلق تمام شکایات کی تحقیقات مکمل کی جائیں۔
نوٹ: یہ ابتدائی خبر ہے، مزید تفصیلات شامل کی جارہی ہیں۔
