گلاسگو: پاکستان کی 22 سالہ باکسر فاطمہ زہرا نے کامن ویلتھ گیمز میں تاریخ رقم کرتے ہوئے باکسنگ میں تمغہ جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
اس کامیابی کے ساتھ پاکستان نے کامن ویلتھ گیمز کی باکسنگ میں 12 سال بعد دوبارہ تمغہ حاصل کیا ہے۔ اس سے قبل 2014 کے گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی باکسر محمد وسیم نے سلور میڈل اپنے نام کیا تھا۔
Another star for Pakistan is born. fatimah zahra bags Pakistan's first medal at the Commonwealth Games 2026.
The young boxer settled for bronze after semi-final defeat to Canada's Marie-Bathoul Al-Ahmadieh in the women's 60kg category. pic.twitter.com/yg5Dn9x2lh
— Haroon Rashid (@TheHaroonRashid) July 31, 2026
فاطمہ زہرا نے خواتین کے 60 کلوگرام ایونٹ کے کوارٹر فائنل میں نیوزی لینڈ کی جورڈن ولسن کو متفقہ فیصلے (5-0) سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی تھی، جس کے ساتھ ہی مقابلوں کے فارمیٹ کے تحت ان کا کم از کم کانسی کا تمغہ یقینی ہوگیا تھا۔
بعد ازاں سیمی فائنل میں انہیں کینیڈا کی میری باتھول الاحمدیہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم وہ کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب رہیں، جو کامن ویلتھ گیمز 2026 میں پاکستان کا پہلا تمغہ بھی ہے۔
فتح کے بعد فاطمہ زہرا نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کی باکسنگ ترقی کر رہی ہے اور یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف پہلا قدم ہے، ان کی خواہش سونے کا تمغہ جیتنے کی تھی، تاہم یہ کانسی کا تمغہ بھی پاکستان باکسنگ کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب مردوں کے 60 کلوگرام مقابلوں میں پاکستان کے قدرت اللہ کو شمالی آئرلینڈ کے جوڈ گالاگھر کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد پاکستان کے تمام مرد باکسرز ایونٹ سے باہر ہوگئے۔
بھارتی کرکٹر اجنکیا رہانے نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا
ایتھلیٹکس میں محمد اسماعیل مردوں کی 400 میٹر ہیٹس میں 46 میں سے 41ویں نمبر پر رہے اور سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی نہ کر سکے، جبکہ تیراک حمزہ آصف بھی مردوں کے 50 میٹر بٹر فلائی ایونٹ میں مجموعی طور پر 70 میں سے 46ویں نمبر پر رہے اور اگلے مرحلے میں جگہ نہ بنا سکے۔
