وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی ملکی خود مختاری کے دفاع کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا۔
وزیراعظم نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا،ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں،بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہئے،جدت کو قابل عمل حل میں بدل کر عوام کی زندگی آسان بنائیں گے،انتھک محنت سے آئندہ نسلوں کے لئے روشن اور خوشحال پاکستان بنائیں گے۔
Pakistan will not be a nation that merely inherits the choices made by others. We will shape our own destiny through innovation, enterprise, self-reliance and untiring efforts, God willing.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif #IndusRASExpo2026 https://t.co/hhYZ4x6k8U
— Shehbaz Digital Media (@ShehbazDigital) July 22, 2026
انہوں نے ان خیالات کا اظہار انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء اور دیگر نے بھی شرکت کی،وزیراعظم نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو میں شرکت میرے لئے باعث مسرت ہے،اس سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے،یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا،آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی،اس جہت نے اکیڈمیا، انڈسٹری، سٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں ،زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت،موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے،آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے،آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے،فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی،سیمولیٹرز سو فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں،ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے،معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابراور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شاندار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں،ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا،دفاعی شعبے میں شاندار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا،دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں،بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہئے، کسانوں کی حالت بہتر ہو،چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والے خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے،محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لئے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہئے۔
وزیراعظم نے پاکستان میں روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا جس کے ذریعے پاکستان میں عالمی معیار کی ٹیکنالوجیز کے لیے تحقیق کو فروغ دیا جائے گا اس سے کاروبار کی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع بڑھیں گے۔وزیراعظم نے 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ تحقیق کو عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ روزگار میں بدلیں گے،دیگر ممالک کی ٹیکنالوجی کے محتاج نہیں بلکہ اپنی تقدیر خود لکھیں گےانتھک محنت سے آئندہ نسلوں کے لئے روشن اور خوشحال پاکستان بنائیں گے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کو ملکی معیشت کیلئے اہم سنگ میل قرار دے دیا
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ انڈس راس ایکسپو 2025 پاکستان میں روبوٹکس اور آٹومیشن کا قومی ایونٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ آج روبوٹس فیکٹریوں سے نکل کر ہر میدان میں آسانی پیدا کر رہے ہیں، پاکستان روبوٹکس اور اے ائی کی مکمل ویلیو چینز کا مالکانہ حق حاصل کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی پائیدار معاشی ترقی کا بنیادی ستون ہے،پرائم منسٹر آفس سسٹم گورننس کے نظام کو مکمل تبدیل کر دے گا۔قبل ازیں تقریب میں آمد پر وزیراعظم کو جامع بریفنگ دی گئی۔ تقریب میں راس انڈس ایکسپو سے متعلق دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔
