میرپور، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کا فیصلہ پنجاب یا سندھ نہیں بلکہ کشمیری عوام کریں گے، جبکہ یہ سمجھنا کہ نشستیں پہلے سے کسی کی جیب میں ہیں، عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات معمول کے نہیں بلکہ انتہائی اہم ہیں اور عوام ایسا فیصلہ کریں کہ مل کر نئی تاریخ رقم کی جا سکے۔
میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میرپور آکر ہمیشہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے دوسرے گھر پہنچ گئے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان کا میرپور سے تین نسلوں پر محیط تعلق ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ منتخب نمائندے میرپور کے عوام کی بھرپور خدمت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات آزاد کشمیر کے مستقبل کا تعین کریں گے، اس لیے عوام کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ آزاد کشمیر کا مستقبل روشن ہو اور یہاں کے عوام کو ترقی، خوشحالی اور بہتر مواقع میسر آئیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور سابق وزیراعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا۔
ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور ایسے تاریخی کارنامے انجام دیے جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج اسلامی دنیا میں صرف پاکستان ایٹمی قوت ہے، جو قائد عوام کے وژن کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے آمریت کے خلاف بہادری سے جدوجہد کی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی ملکی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا اور شہید بے نظیر بھٹو کے نامکمل مشن کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کی صورت میں مکمل کیا، جس سے پارلیمانی نظام اور صوبائی خودمختاری کو مضبوط بنیادیں ملیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر نئی تاریخ رقم کریں، تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے عوام کو حقِ ملکیت دلانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ آئندہ بھی عوام کے حقِ ملکیت، حقِ حاکمیت اور حقِ روزگار کو یقینی بنایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر 15 کلینک آن ویلز آزاد کشمیر روانہ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں آ کر عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں، مزدوروں، کسانوں اور دیگر طبقات کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کا نمائندہ نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی مؤثر آواز بنے تاکہ کشمیری عوام کے مسائل قومی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کیے جا سکیں۔
انہوں نے مخالف سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مہاجرین کی 12 نشستیں یا دیگر حلقے پہلے سے ان کی ملکیت ہیں، وہ دراصل ووٹر کے حقِ رائے دہی کی توہین کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام ایسی سوچ کو مسترد کریں اور اپنے ووٹ کی طاقت سے فیصلہ کریں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر عوام پاکستان پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر میں دو تہائی اکثریت دیں گے تو انصاف کا بول بالا کیا جائے گا، عوامی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور ترقی و خوشحالی کا نیا دور شروع ہوگا۔
انہوں نے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے کشمیر سے متعلق مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیر کے لیے سو سال جدوجہد کرنا پڑی تو پیپلز پارٹی اس کے لیے بھی تیار ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر عوام سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں بھرپور شرکت کریں اور ایسا فیصلہ کریں جس سے آزاد کشمیر میں عوامی خدمت، جمہوری اقدار اور ترقی کی نئی تاریخ رقم ہو سکے۔
