وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کو ملکی معیشت کیلئے اہم سنگ میل قرار دے دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ “مائنس بی ” سے بڑھا کر “بی ” کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کامیابی حکومت کی مؤثر معاشی پالیسیوں، مالیاتی نظم و ضبط، اصلاحاتی اقدامات اور قومی معیشت کو مستحکم بنانے کی مسلسل کوششوں پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے معیشت کو استحکام دینے، ٹیکس نظام کو بہتر بنانے، مالی خسارے میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے کے اقدامات درست سمت میں گامزن ہیں۔
PM @CMShehbaz has welcomed the decision of international credit rating agency S&P Global Ratings to upgrade #Pakistan's sovereign credit rating from 'B Minus' to 'B'@PakPMO @Financegovpk @StateBank_Pak @GovtofPakistan @MoIB_Official @SPGlobalRatings @kschehzad #RadioPakistan… pic.twitter.com/4JDCSBHs7i
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) July 22, 2026
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت نے مشکل مگر ضروری معاشی فیصلے کیے، جن کے مثبت نتائج اب عالمی سطح پر بھی تسلیم کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس پیش رفت سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید بڑھے گا، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار میں مزید تیزی آئے گی۔
انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، اقتصادی ٹیم اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس کامیابی پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت معاشی اصلاحات کے سفر کو پوری سنجیدگی اور مستقل مزاجی سے جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کو پائیدار اور مضبوط اقتصادی بنیادیں فراہم کی جا سکیں۔
ایس اینڈ پی نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ منفی بی سے ‘بی’ کر دی، معاشی استحکام کا اعتراف
واضح رہے کہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ‘بی مائنس’ (B-) سے بڑھا کر ‘بی’ (B) کر دی ہے جبکہ ملک کا آؤٹ لک ‘اسٹیبل’ (Stable) برقرار رکھا گیا ہے۔
ایس اینڈ پی گلوبل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد، ادارہ جاتی استحکام میں بہتری اور معاشی اشاریوں میں مثبت پیش رفت کے باعث کیا گیا۔
