امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ سول جوہری معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی خاموشی کے خلاف اسرائیلی اپوزیشن نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مجوزہ معاہدے کو اسرائیل کے لیے “اسٹریٹیجک تباہی” قرار دے دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق سابق وزیردفاع اویگدورلائبرمین نے کہا ہے کہ امریکا اورسعودی عرب کے درمیان ممکنہ سول جوہری معاہدہ مستقبل میں سعودی عرب کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی راہ ہموارکرسکتا ہے، اس لیے اسرائیل کو اس کی بھرپورمخالفت کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ طے پا گیا تو مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔
لائبرمین نے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کا آغاز سول جوہری پروگرام سے ہوتا ہے، جس کی مثال ایران ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت دینا اسرائیل کیلئے ایک “سرخ لکیر” عبور کرنے کے مترادف ہوگا۔
سابق اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر سعودی عرب میں جوہری تنصیبات قائم ہوئیں تو وہ مستقبل میں ایران کے ممکنہ حملوں کا ہدف بن سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کو اس معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے امریکی کانگریس کو بھی اسے مسترد کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے، چاہے اس کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اختلاف ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
کسی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کے پاور پلانٹس اور پل تباہ کر دینگے، ٹرمپ
دوسری جانب اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود باراک نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق مجوزہ معاہدے میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی کوئی شرط شامل نہیں، جو ان کے بقول نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کے درمیان اعتماد میں کمی کی علامت ہے۔
اسرائیل کی ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہ یائیر گولان نے بھی نیتن یاہو کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی غلط حکمت عملی نے سعودی عرب کے لیے ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے۔
ان کے مطابق اب مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی امریکا کے ساتھ سعودی طرز کے جوہری معاہدوں کی کوشش کریں گے۔
ادھر اسرائیلی اخبار ہاریٹز (Haaretz) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکا۔سعودی جوہری معاہدہ ریاض کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودہ کرنے کا راستہ فراہم کر سکتا ہے۔
اخبار کے مطابق ایک اسرائیلی ذریعے نے کہا کہ اگر سعودی عرب کو یہ اجازت مل گئی تو یہ اسرائیل کے لیے تشویشناک پیش رفت ہوگی، خواہ اس کے ساتھ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کا اعلان ہی کیوں نہ کیا جائے۔
