ایرانی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ 27 جون سے 31 جولائی کی صبح تک ملک پر ہونے والے امریکی فضائی حملوں میں 53 افراد جاں بحق جبکہ 592 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
وزارتِ صحت کے شعبہ تعلقاتِ عامہ و اطلاعات کے سربراہ حسین کرمان پور نے اپنے بیان میں کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں 6 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں جن کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ زخمیوں میں 39 خواتین اور 23 کم عمر بچے شامل ہیں۔حسین کرمان پور کے مطابق زخمی ہونے والے 592 افراد میں سے 535 علاج کے بعد اسپتالوں سے ڈسچارج ہو چکے ہیں، 36 اب بھی زیرِ علاج ہیں، جبکہ 21 افراد کو جائے وقوعہ پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔
🏥 TEHRAN — Iran’s own ministry admits civilian deaths; Tehran usually buries these numbers.
📌 LOOK CLOSER: 53 confirmed by Tehran’s Health Ministry — a figure Iran has every incentive to understate, not publish. Released now, it feeds congressional scrutiny of strike… pic.twitter.com/JGSE0UTUCx
— perceptiondaily (@perceptiondaily) July 22, 2026
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ فوج نے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے مکمل کر لیے ہیں ۔ سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے ایرانی فوجی آپریشنز مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایران نے علاقائی اور عالمی تجارت کے لیے اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔
کسی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کے پاور پلانٹس اور پل تباہ کر دینگے، ٹرمپ
سینٹکام نے دعویٰ کیا کہ ان “بلاجواز حملوں” سے سیکڑوں بے گناہ ملاحوں کی جانیں خطرے میں پڑیں اور بین الاقوامی آبی راستوں میں آزادانہ جہاز رانی متاثر ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے، جبکہ مئی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں اور 450 ملین بیرل خام تیل کی محفوظ نقل و حمل میں مدد فراہم کی ہے۔
