کوٹلی: بلاول بھٹو نے پیپلزپارٹی کے وفادار کارکنوں کو ٹکٹ دینے اور آزادکشمیر میں حکومت بنانے کا دعویٰ کر دیا۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کوٹلی میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی کوٹلی آتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اپنے گھر آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے امیدوار ان کے خاندان کے نمائندے ہیں جبکہ چودھری یاسین وفاداری اور بہادری کی مثال ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر ٹکٹوں کی تقسیم ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ فیصلہ کرنا تھا کہ پارٹی کے وفادار ساتھیوں کو ٹکٹ دیے جائیں یا نئے آنے والوں کو، تاہم پیپلزپارٹی نے اپنے نظریاتی اور وفادار کارکنوں کو ترجیح دی۔
انہوں نے کہا کہ مطلوب انقلابی پیپلزپارٹی کے وفادار ساتھی تھے اور اب ان کے بیٹے کو اسمبلی میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ انتخابات میں بھی پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی تھی اور اس مرتبہ اس سے بہتر نتائج حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوٹلی کی تمام نشستیں پیپلزپارٹی جیتے گی اور آزادکشمیر میں حکومت قائم کرے گی۔
پیپلزپارٹی چیئرمین نے کشمیر کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا بھر میں کشمیر کا مقدمہ لڑتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیر خارجہ انہوں نے عالمی سطح پر کشمیر کا دفاع کیا اور آئندہ بھی کشمیری عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کا مؤقف تھا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کریں گے، جبکہ شہید بے نظیر بھٹو نے کشمیر کو او آئی سی میں خصوصی حیثیت دلوائی تاکہ کشمیری اپنی جدوجہد کو آگے بڑھا سکیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فیصلہ سازی کے اداروں میں کشمیر کی نمائندگی ضروری ہے اور رائے شماری تک کشمیری نمائندگی کے حق دار ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کا نمائندہ قومی اسمبلی میں بھی ان کے ساتھ موجود ہو۔
انہوں نے روزگار کے حوالے سے کہا کہ پیپلزپارٹی نے سب سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کیے اور کشمیری نوجوانوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
آزادکشمیر کے حالیہ مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ تمام معاملات سیاسی طریقے سے حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کے اقدامات کی سزا پورے کشمیر کو نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کشمیر سے متعلق معاملات پر واضح پالیسی اختیار کی جائے۔
جلسے کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 27 تاریخ کو پہاڑوں کے درمیان تیر کا ایسا وار ہوگا کہ تاریخ یاد رکھے گی۔
