امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کاروباری اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں2.55 فیصداضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 90 ڈالر 35 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ایران امریکا معاہدہ دنیا کیلئے مثبت پیغام ہے، امن کوششوں کی حمایت کرتے ہیں، چین
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی 2.36 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 84.44 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا اس میں مزید اضافہ ہوا تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کو تیل فراہم کرنے والا اہم ترین خطہ ہے، اس لیے امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی قسم کی فوجی یا سفارتی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں پر فوری اثرات مرتب کرتی ہے۔
ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا کردار زبردست رہا، امریکی نائب صدر
سرمایہ کار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز یا خطے میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو عالمی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دنیا بھر میں ایندھن، ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت بڑھا سکتا ہے، جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکا کو ایسا سبق سکھایا جائے گا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا، ایرانی سپریم لیڈر
پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال تشویش کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ عالمی قیمتوں میں اضافے سے مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
