پشاور، خیبرپختونخوا حکومت نے مراعات و استحقاق ایکٹ کی متنازع شقیں واپس لینے کا فیصلہ کر لیا۔
وزیراطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اسپیکرصوبائی اسمبلی بابرسلیم سواتی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں قانون سے متعلق مختلف اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
شفیع جان نے کہا کہ اجلاس میں اس بات پراتفاق کیا گیا کہ مراعات واستحقاق ایکٹ کی تمام متنازع شقیں قانون سے واپس لی جائیں گی۔
ان کے مطابق ان شقوں کو مزید جائزے کیلئے استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے جو ایک ہفتے کے اندر اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ صحافیوں پر پابندی سے متعلق شق اور بلیو پاسپورٹس کے حصول سے متعلق دفعات بھی انہی متنازع شقوں میں شامل ہیں، جنہیں ختم یا مناسب ترامیم کے بعد 1988 کے اصل قانون کو بحال کیا جائے گا۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا قانون لانا چاہتی ہے جو آئین، جمہوری اقدار اور آزادیٔ اظہار کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے گورنر نے 6 مئی کو مراعات و استحقاق ایکٹ پر دستخط کیے تھے تاہم بعد ازاں مختلف حلقوں، بالخصوص صحافتی تنظیموں کی جانب سے بعض شقوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
بعد ازاں وزیر طلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ صوبے میں گندم کی صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے اور عوام کو کسی قسم کی قلت کا سامنا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کوسالانہ تقریباً 54 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ صوبے میں 16 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی پیداوار ہوتی ہے۔
شفیع جان کے مطابق اس وقت سرکاری گوداموں میں ایک لاکھ 53 ہزار میٹرک ٹن گندم موجود ہے جبکہ نجی شعبے کے پاس بھی ایک لاکھ 16 ہزارمیٹرک ٹن سے زائد گندم کے ذخائرموجود ہیں، جس کے باعث صوبے میں گندم کی دستیابی تسلی بخش ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے مقامی کاشتکاروں سے بھی گندم خریدنے کی منظوری دے دی ہے اس پالیسی کے تحت 40 کلو گرام گندم 3 ہزار500 روپے کے نرخ پر خریدی جائے گی، تاکہ کسانوں کو ان کی فصل کا مناسب معاوضہ مل سکے اور مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی ہو۔
کراچی سے پشاور تک 100 کلو گندم 11 ہزار 600 روپے میں دستیاب ہے، صوبائی مشیر خزانہ
وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتی ہے کہ صوبوں کے درمیان گندم کی ترسیل پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے تاکہ ضرورت کے مطابق گندم کی آزادانہ نقل و حمل ممکن ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ بین الصوبائی تعاون سے نہ صرف غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے بلکہ ملک بھر میں گندم کی منڈی کو بھی مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت اس مطالبے پر مثبت فیصلہ کرے گی۔
دوسری جانب معاون خصوصی خوراک خیبرپختونخوا اسرار صافی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گندم کی پیداوار کم ہوتی ہے، 38لاکھ میٹرک ٹن گندم ہم پنجاب سے درآمد کرتے ہیں، پنجاب کے پاس 60 لاکھ میٹرک ٹن گندم اضافی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پنجاب میں فی میٹرک ٹن گندم 7 ہزار تھی اب 10 ہزار روپے ہے، ہمیں گندم نہیں دی جارہی اس لیے خیبرپختونخوا میں گندم کی قیمت زیادہ ہے، اب تک پاسکو سے ایک لاکھ 75 ہزار میٹرک ٹن گندم خرید چکے ہیں۔
