خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے گندم کی قیمتوں کے حوالے سے اہم بات کر دی۔
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ شہباز شریف حکومت کے چار سالہ دور میں تیسری مرتبہ گندم کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے جس کی بڑی وجہ پنجاب حکومت کی غلط پالیسیاں ہیں۔
پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ گندم بحران سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پیٹرولیم لیوی کا معاملہ نمایاں کیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں گندم کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
انہوں نے گندم کی قیمتوں کے بارے میں کہا کہ کراچی سے پشاور تک 100 کلو گندم 11 ہزار 600 روپے میں دستیاب ہے جبکہ مارکیٹ میں گندم 115 روپے اور آٹا 130 سے 150 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سال 2022 میں یہی آٹا 65 سے 70 روپے فی کلو دستیاب تھا۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی قیمت دگنی ہونے کے باوجود کسان بدحال اور دیوالیہ ہو چکا ہے، جو حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب نے خیبر پختونخوا کو گندم اور آٹے کی ترسیل میں غیر اعلانیہ کمی برقرار رکھی ہوئی ہے جبکہ سندھ سے بلوچستان کے راستے گندم لانے کی کوششوں میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لیا جائے، ایم کیو ایم نے عوام کیلئے آواز اٹھا دی
مشیر خزانہ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے گندم کی ترسیل کا معاملہ متعدد بار وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے سامنے اٹھایا، تاہم تاحال اس مسئلے کا مؤثر حل نہیں نکالا گیا۔
