سندھ میں بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے غفلت پر زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت کراچی کے کلثوم بائی والیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں بریفنگ دی گئی کہ اسپتال میں اب تک 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہو چکی ہے۔
مراد علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ جہاں بھی غفلت یا بدانتظامی ثابت ہوئی، ذمہ داروں کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بچے قوم کا مستقبل ہیں اور ان کی زندگیاں انتہائی قیمتی ہیں، اس لیے طبی اصولوں کی خلاف ورزی یا کسی بھی قسم کی کوتاہی پر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ کلثوم بائی والیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کے مریض بچوں کے علاج کی سہولیات فعال ہیں جبکہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے لیے خصوصی آئسولیشن وارڈ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی میرٹ پر اور بلا تاخیر مکمل کی جائے۔
دوسری جانب موقر انگریزی روزنامہ ڈان کے مطابق چندکا میڈیکل کالج چلڈرن اسپتال لاڑکانہ کے اینٹی ریٹرو وائرل ٹریٹمنٹ سنٹر کے حکام کے مطابق صرف جون کے مہینے میں 73 نئے بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، جن میں اکثریت ضلع خیرپور کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتی ہے۔
پاکستان کیلئے عالمی اعزاز ، ماہرِ نفسیات ڈاکٹر عائشہ بین الاقوامی تنظیم کی صدر منتخب
چلڈرن اسپتال کے حکام نے کہا کہ روزانہ تقریباً 20 فالو اپ مریض علاج کے لیے سینٹر آتے ہیں، تاہم بڑھتے ہوئے مریضوں کے باعث اسپتال کو عملے کی کمی کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق سینٹر میں تاحال فارماسسٹ تعینات نہیں جبکہ بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے مزید جونیئر ڈاکٹروں کی بھی ضرورت ہے۔
خیال رہے سندھ میں بچوں میں ایچ آئی وی کے بڑے پیمانے پر کیسز پہلی بار 2019 میں ضلع لاڑکانہ کی تحصیل رتوڈیرو میں سامنے آئے تھے، اس وقت صرف دو ماہ میں 876 ایچ آئی وی کیسز سامنے آئے تھے، عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس وبا کی بڑی وجوہات میں آلودہ سرنجوں کا بار بار استعمال، انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات اور غیر محفوظ طبی طریقہ کار شامل تھے۔
