جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں ایک آئی ای ڈی دھماکے میں معروف قبائلی رہنما ملک طارق وزیر سمیت کم از کم تین افراد جاں بحق جبکہ چار زخمی ہو گئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد طاہر شاہ وزیر کے مطابق دھماکا رستم بازار میں گلشن پلازہ کے قریب اس وقت ہوا جب احمدزئی وزیر قبیلے کے سربراہ ملک طارق وزیر کی گاڑی مصروف بازار سے گزر رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ نامعلوم افراد نے رات کے وقت گلشن پلازہ کے قریب بارودی مواد نصب کیا تھا، جسے صبح کے وقت گاڑی گزرنے پر دھماکے سے اڑا دیا گیا۔
Tribal elder Malik Tariq, chief of the Ahmadzai Wazir tribe, has succumbed to his injuries following an IED car blast at Gulshan Market in Wana Bazar, South Waziristan. Five others were injured and shifted to the hospital.#SouthWaziristan #Wana #BreakingNews pic.twitter.com/E5yCzytilX
— Frontier Files (@frontier_files) May 18, 2026
ریسکیو اہلکاروں اور مقامی افراد نے لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز (ڈی ایچ کیو) ہسپتال وانا منتقل کیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جان محمد کے مطابق زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں ہنگامی طبی امداد دی جا رہی ہے۔
دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا، جبکہ واقعے کے باعث مصروف بازار میں خوف و ہراس پھیل گیا اور تاجروں نے عارضی طور پر دکانیں بند کر دیں۔
ملک طارق وزیر کو لوئر جنوبی وزیرستان میں ایک بااثر قبائلی شخصیت سمجھا جاتا تھا، جو مقامی تنازعات کے حل اور امن کے لیے جرگوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔ انہیں دسمبر 2024 میں مسلح افراد نے اغوا بھی کیا تھا تاہم قبائلی عمائدین کی کوششوں سے بعد ازاں رہا کر دیا گیا تھا۔
سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکام سے قبائلی اضلاع میں امن بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
