پاکستانی ماہر نفسیات ڈاکٹر عائشہ میاں کو انٹرنیشنل ایسوسی ایشن فار چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ سائیکائٹری اینڈ الائیڈ پروفیشنز (IACAPAP) کی 2026 سے 2030 کی مدت کے لیے صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ڈاکٹر عائشہ اس ادارے کی 1937 میں قائم ہونے کے بعد پہلی پاکستانی اور پہلی جنوبی ایشیائی شخصیت ہیں جو اس عالمی تنظیم کی قیادت کریں گی ، یہ کامیابی ان کی نفسیات، طبی تعلیم اور ذہنی صحت کے فروغ کے لیے برسوں کی انتھک محنت اور قیادت کا بین الاقوامی اعتراف ہے۔
ان کا صدر منتخب ہونا نہ صرف پاکستان بلکہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے ابھرنے والی طبی مہارت اور قیادت کے عالمی اعتراف کا بھی اہم مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی ریزیڈنسی پروگرام ، پاکستانی ڈاکٹروں نے بھارتیوں کو پیچھے چھوڑ دیا
ڈاکٹر عائشہ آغا خان یونیورسٹی کی گریجویٹ ہیں۔ وہ ماضی میں یونیورسٹی آف ٹیکساس اور بیلر کالج آف میڈیسن میں تدریسی فرائض بھی انجام دے چکی ہیں۔
2013 میں پاکستان واپسی کے بعد وہ آغا خان یونیورسٹی میں فاؤنڈنگ ڈین آف اسٹوڈنٹ ایکسپیرینس اور چیئر، شعبۂ نفسیات مقرر ہوئیں، جہاں انہوں نے پاکستان کا پہلا چائلڈ اینڈ ایڈولیسنٹ سائیکائٹری فیلوشپ ٹریننگ پروگرام قائم کیا۔
اس وقت وہ سائنیپس ، پاکستان نیوروسائنس انسٹیٹیوٹ کی بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ہیں، جہاں وہ شواہد پر مبنی طبی خدمات، تعلیم، تحقیق اور ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کے فروغ کے ذریعے پاکستان میں ذہنی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
GIMS میں پاکستان کی پہلی کامیاب سیمی ایکٹو روبوٹک نیورو اسپائن سرجری
IACAPAP بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے تحفظ اور بہتری کے لیے کام کرنے والی دنیا کی سب سے معتبر اور بااثر ترین تنظیموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس عالمی ادارے کی صدارت ملنا پاکستان کے لیے طبی دنیا میں ایک بہت بڑا سنگِ میل ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی ہیلتھ کیئر کی قیادت میں پاکستان کا کردار اور ساکھ تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے۔
