وفاقی آئینی عدالت نے کراچی کے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 21 دسمبر 2018ء اور 22 جنوری 2019ء کے احکامات واپس لے لئے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں غیرقانونی تعمیرات کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا،کراچی میں زمینوں کے کنورژن پر عائد پابندی پر مبنی سپریم کورٹ کا حکم واپس لے لیا گیا۔
نسلہ ٹاور کیس:سابق ڈی جی ایس بی سی اے منظور کاکا سمیت 27 ملزمان بری
عدالت نے سپریم کورٹ کا غیرقانونی تعمیرات مسمار کرنے کا جاری حکم واپس لے لیا،وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا۔
وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا،جس میں کہا گیا ہے کہ بلڈنگ قوانین صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں نہ کہ عدالتوں کے۔
قانون ایس بی سی اے اور صوبائی حکومت کو غیرقانونی تعمیرات کیخلاف کاروائی کا پابند بناتا ہے،سندھ حکومت اور ایس بی سی اے افسران قانون پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔
نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضہ ادا کیا جائے ، سپریم کورٹ کا حکم
سپریم کورٹ کے سامنے لیاری کی غیرقانونی تعمیرشدہ عمارت کی اپیل زیر سماعت تھی،سپریم کورٹ نے بلڈنگ کا کیس پہلے پورے لیاری پھر کراچی شہر تک پھیلا دیا۔
سپریم کورٹ نے کراچی میں غیرقانونی شادی ہالز، شاپنگ سینٹرز اور مارکیٹس مسمار کرنے کا حکم دیا،سپریم کورٹ نے آئینی تقاضے پورے کیے بغیر اپیل میں سوموٹو اختیار استعمال کیا۔
سپریم کورٹ نے کراچی ماسٹر پلان کیخلاف تمام تعمیرات مسمار کرنے کا بھی حکم دیا تھا،صرف ایس بی سی اے کی رپورٹ پر تعمیرات مسمار کرنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا،ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ اسے مکمل قانونی عمل سے گزارا جائے۔
سارے شہر کی مشینری اور اسٹاف لے کر نسلہ ٹاور گرائیں، چیف جسٹس
آئینی عدالت کسی غیرقانونی تعمیر کو جائز قرار نہیں دے رہی،غیرقانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی کیلئے قوانین اور عملدرآمد کا طریقہ کار موجود ہے۔
اصل مقدمہ لیاری کی ایک بلڈنگ کا تھا جو فریقین کے مطابق غیرموثر ہوچکا ہے،سپریم کورٹ کے مقدمے میں جاری احکامات واپس لیتے ہوئے کیس نمٹایا جاتا ہے۔
پس منظر:
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے جون 2021ء میں کراچی کی شاہراہِ فیصل پر واقع نسلہ ٹاور کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسمار کرنے (گرانے) کا حکم دیا تھا۔عدالت نے قرار دیا تھا کہ یہ عمارت تجاوزات (سرکاری زمین) پر بنائی گئی ہے۔
عدالتی احکامات کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
غیر قانونی تعمیر: عدالت نے عمارت کے نقشے اور لیز کو غیر قانونی قرار دیا اور اسے فورا گرانے کا حکم دیا۔
ٹوٹل ڈیمولیشن: ابتدائی طور پر بلڈر کو عمارت خود گرانے کا کہا گیا، لیکن بعد ازاں عمل نہ ہونے پر کمشنر کراچی کو حکم دیا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی استعمال کر کے نسلہ ٹاور کو مکمل طور پر زمین بوس کیا جائے۔
سخت ڈیڈ لائن: عدالت نے کمشنر کراچی کو ایک ہفتے کے اندر نسلہ ٹاور کو گرا کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
مالی معاوضہ: سپریم کورٹ نے بلڈر کو ہدایت کی تھی کہ وہ نسلہ ٹاور کے تمام رہائشیوں (خریدداروں) کو ان کی جمع شدہ رقم واپس کرے۔ان احکامات کے نتیجے میں انتظامیہ نے فروری 2022ء میں نسلہ ٹاور کو مکمل طور پر گرا دیا تھا۔
