قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے افغانستان کے سابق فاسٹ بولر شاپور زدران کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر اپنے تعزیتی پیغام میں لکھا کہ “موت ہر ایک کو آنی ہے، مگر پشتونوں کی عزت، وقار اور بہادری کبھی نہیں مرتی۔ شاپور زدران صرف ایک کرکٹر نہیں بلکہ ایک بہادر انسان تھے، جن کی خدمات اور یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔

شاہد آفریدی نے چند ماہ قبل شاپور زدران کی علالت کے دوران بھی ان کے بھائی سے رابطہ کیا تھا، ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی تھی اور ہر ممکن تعاون کی پیشکش بھی کی تھی۔
شاپور زدران افغانستان کرکٹ کے ان کھلاڑیوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے ملک میں کرکٹ کے فروغ اور عالمی سطح پر افغانستان کو شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک افغانستان کی نمائندگی کی اور متعدد تاریخی فتوحات میں نمایاں کردار ادا کیا۔
شاہد آفریدی کی شاپور زدران کی صحتیابی کے لیے دعا، ہر ممکن مدد کی پیشکش
شاپور زدران 2015 کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ میں افغانستان کی پہلی تاریخی ورلڈ کپ فتح کے ہیرو بھی تھے۔ انہوں نے اس ٹورنامنٹ میں 10 وکٹیں حاصل کیں اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف یادگار کامیابی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
افغان کرکٹ بورڈ نے کہا کہ شاپور زدران افغانستان کرکٹ کی بنیاد رکھنے والے اہم کھلاڑیوں میں شامل تھے، جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
افغانستان کے سابق فاسٹ بولر شاپور زدران طویل عرصے سے کینسر جیسے موذی مرض کا مقابلہ کر رہے تھے اور بھارت کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج تھے، جہاں افغانستان کرکٹ ٹیم کے کئی موجودہ اور سابق کھلاڑی وقتاً فوقتاً ان کی عیادت کرتے رہے۔
شاپور زدران نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں افغانستان کی جانب سے 44 ایک روزہ اور 36 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے اور اپنی جارحانہ باؤلنگ سے ٹیم کی کئی یادگار فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔
افغانستان کے سابق فاسٹ بولر شاپور زادران انتقال کر گئے
ان کے کیریئر کا سب سے یادگار لمحہ 2015 کے آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ میں اسکاٹ لینڈ کے خلاف میچ تھا، جہاں انہوں نے آخری لمحات میں فاتحانہ رنز بنا کر افغانستان کو ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی کامیابی دلائی، جو آج بھی افغان کرکٹ کی سنہری یادوں میں شمار ہوتی ہے۔
شاپور زدران کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد کرکٹ حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ ساتھی کھلاڑیوں، سابق کرکٹرز، کرکٹ حکام اور دنیا بھر کے شائقین نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
