آسٹریلیا میں ایک عوامی لائبریری کو تقریباً ڈیڑھ صدی قبل لی گئی کتاب واپس مل گئی، جس نے لائبریری انتظامیہ سمیت مقامی افراد کو بھی حیران کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کے ساحلی شہر کیاما کی عوامی لائبریری میں گزشتہ ہفتے ایک نایاب کتاب واپس جمع کرائی گئی، جو تقریباً 150 برس قبل لائبریری سے جاری کی گئی تھی۔
سمندر نے 53 سال پرانا راز اگل دیا
لائبریری کی منیجر مشیل ہڈسن کے مطابق مقامی شہری روس سیمنز نے اپنے آبائی گھر کی مرمت کے دوران ایک بند آتش دان (فائر پلیس) کے اندر اینٹوں سے بند چائے کی لکڑی کی پیٹی دریافت کی، جس میں یہ تاریخی کتاب موجود تھی۔ طویل عرصے تک بند رہنے اور نمی کے باعث کتاب کو پانی سے نقصان بھی پہنچا۔
کتاب کا عنوان “Antiquities of Athens”ہے، جو 1858 میں شائع ہوئی تھی۔ یہ کتاب 1872 میں قائم ہونے والی کیاما لائبریری کے ابتدائی تقریباً ایک ہزار کتابوں کے ذخیرے میں شامل تھی اور اس پر لائبریری کا نمبر 506 درج ہے۔ لائبریری انتظامیہ کا خیال ہے کہ یہ کتاب لائبریری کے قیام کے چند ہی برس بعد گم ہوگئی تھی۔
شاور کے سوراخوں سے چونا ختم کرنے کا بہترین طریقہ سامنے آ گیا
روس سیمنز کا کہنا ہے کہ ان کا اندازہ ہے کہ یہ کتاب ان کے پڑدادا جان سیمنز نے مستعار لی ہوگی، کیونکہ اسی دور میں وہ اس مکان میں رہائش پذیر تھے جبکہ ان کے بچے اس وقت بہت کم عمر تھے۔ جان سیمنز انگلینڈ سے آسٹریلیا منتقل ہوئے تھے اور بعد ازاں کیاما کی مقامی بلدیاتی حکومت میں بھی خدمات انجام دیتے رہے۔
لائبریری منیجر کے مطابق اگر اس کتاب پر اس زمانے کے قواعد کے مطابق تاخیر کا جرمانہ عائد کیا جائے تو موجودہ قدر کے حساب سے یہ تقریباً 28 ہزار آسٹریلوی ڈالر بنتا ہے۔ اس وقت کتاب کے اندر درج قواعد کے مطابق مقررہ مدت گزرنے کے بعد ہر ہفتے تین پینس جرمانہ وصول کیا جاتا تھا۔
مشیل ہڈسن نے بتایا کہ بدقسمتی سے 1870 کی دہائی کے ریکارڈ محفوظ نہیں رہے، اس لیے یہ معلوم کرنا ممکن نہیں کہ کتاب آخری مرتبہ کس شخص نے جاری کروائی تھی۔ ان کے مطابق پرانے قوانین کے تحت نئی کتاب اسی وقت جاری کی جاتی تھی جب پہلے لی گئی کتاب واپس کر دی جائے اور تمام جرمانہ ادا کیا جائے۔
امریکی شہری کو بہترین سالگرہ کا تحفہ ، 5 ڈالر کی لاٹری سے 10 لاکھ ڈالر انعام جیت لیا
اس دور کے لائبریری قوانین آج کے مقابلے میں خاصے منفرد تھے۔ ایک گھرانے کو صرف اسی صورت تین کتابیں جاری کی جا سکتی تھیں جب اس کے کم از کم چھ افراد کے پڑھنے لکھنے کی صلاحیت ثابت ہو۔ اسی طرح نشے کی حالت میں آنے والے افراد کو کتابیں جاری نہیں کی جاتی تھیں۔
77 سالہ روس سیمنز نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ انہیں کبھی یہ فکر نہیں ہوئی کہ لائبریری ان سے 150 سال پرانا قرض یا جرمانہ وصول کرے گی، کیونکہ وہ زندگی بھر ناراض گاہکوں سے نمٹتے رہے ہیں۔
اسپائیڈر مین کے لباس میں ملبوس نوجوان نے معذور شخص کی مدد کرکے دل جیت لیے
لائبریری انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نایاب کتاب کو اب مقامی تاریخی ذخیرے میں مستقل طور پر محفوظ رکھا جائے گا اور اسے دوبارہ کسی قاری کو جاری نہیں کیا جائے گا تاکہ اسے واپس آنے میں مزید 150 سال انتظار نہ کرنا پڑے۔
