اسرائیل کی ایک عدالت نے انتہا پسند وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر کے اس متنازع منصوبے پر عمل درآمد عارضی طور پر روک دیا ہے جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کو رکھنے والی کتزیوت جیل کے اطراف مگرمچھ چھوڑنے کی تجویز دی گئی تھی۔
الجزیرہ کے مطابق عدالتی فیصلہ جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم “لیٹ دی اینیملز لِو” کی جانب سے دائر درخواست پر سامنے آیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مگرمچھوں کو جیل کے اطراف رکھنے کا منصوبہ نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ اس سے جانوروں کی زندگی اور فلاح کو بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
View this post on Instagram
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست گزار تنظیم کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ آیا مجوزہ منصوبہ جانوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں کرتا۔ اسی بنیاد پر منصوبے پر عمل درآمد کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر نے حالیہ دنوں میں فلسطینی قیدیوں کے لیے سخت ترین حفاظتی اور انتظامی اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے کتزیوت جیل کے گرد مگرمچھ رکھنے کی تجویز دی تھی۔ ناقدین نے اس منصوبے کو غیر انسانی، اشتعال انگیز اور غیر معمولی قرار دیا تھا۔
اسرائیل میں پہلی بار ہجرت کا رخ الٹ گیا، جانے والوں کی تعداد آنے والوں سے بڑھ گئی
جانوروں کے حقوق کی تنظیم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مگرمچھ قدرتی ماحول سے ہٹ کر ایسی جگہ رکھے جائیں گے جہاں ان کی صحت، خوراک اور رہائش کے مناسب انتظامات ممکن نہیں، جس سے ان جانوروں کو تکلیف پہنچ سکتی ہے۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیکیورٹی اقدام کے لیے جانوروں کو بطور ذریعہ استعمال کرنا اخلاقی اور قانونی طور پر قابل قبول نہیں۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ منصوبے کے تمام پہلوؤں، خصوصاً جانوروں کی فلاح اور تحفظ سے متعلق خدشات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، جس کے بعد ہی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس تجویز پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کے ساتھ پہلے ہی سخت رویے کی شکایات موجود ہیں، ایسے میں اس نوعیت کی تجاویز مزید تنازع کو جنم دے سکتی ہیں۔ تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے عدالتی فیصلے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
