امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ “میں ایک چھوٹی سی وارننگ دوں گا، ہم آج رات ایران پر سخت حملہ کرنے والے ہیں۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایرانیوں سے خوش نہیں ہیں اور ایران کے ساتھ موجودہ صورتحال کو جنگ نہیں بلکہ “ایران کی ڈی نیوکلیئرائزیشن” قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کسی معاہدے کے بغیر بھی ایران کی جوہری صلاحیت ختم کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق گزشتہ 47 برسوں میں کسی امریکی صدر نے ایران کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی، جبکہ انہوں نے سابق صدر باراک اوباما پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ایران کو اربوں ڈالر فراہم کیے۔
امریکی صدر نے یوکرین کے حوالے سے بھی کہا کہ امریکہ کا وہاں کچھ مفاد ہے، جن میں معدنی وسائل بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل بنانے کے لیے لائسنس دینے جا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ انہوں نے آٹھ جنگیں ختم کرائیں اور کہا کہ ایران نے گزشتہ 47 سال تک امریکہ کے ساتھ برا برتاؤ کیا۔ دوسری جانب یوکرین کے صدر نے امید ظاہر کی کہ صدر ٹرمپ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔
.@POTUS on Iran: “I don’t know if we’re going to have a deal… They lie and they cheat… They’ve misbehaved for 47 years. They’ve killed our soldiers; they’ve killed our people… We have a score to settle.” pic.twitter.com/RN9q1YV8b3
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 8, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کے لیے حقیقی سیکیورٹی گارنٹی یہ ہے کہ جنگ بندی کرائی جائے تاکہ انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ماضی میں کئی جنگیں رکوا چکے ہیں اور یوکرین کی جنگ بھی رکوا دیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔ انہوں نے سابق صدر باراک اوباما اور ایران کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کو “تاریخ کا بدترین معاہدہ” قرار دیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ نیٹو کا حالیہ اجلاس شاندار رہا۔ ان کے مطابق وہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ روسی صدر کی جنگ ختم کرنے سے متعلق شرائط میں تبدیلی آ رہی ہے۔
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ وہ آج روسی صدر پیوٹن سے بھی بات چیت کریں گے تاکہ روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے امکانات پر پیش رفت ہو سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن مقرر نہیں، کیونکہ اس حوالے سے بیک وقت کئی معاملات پر کام جاری ہے۔
ٹرمپ نے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے انہیں ماسکو میں ملاقات کی دعوت دی تھی، تاہم انہوں نے جواب دیا کہ فی الحال ایسا مناسب نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر یوکرین کا دورہ بھی کریں گے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی، جبکہ آذربائیجان سے متعلق ایک طویل تنازع اور کانگو کے حوالے سے بھی معاہدہ کرانے میں کردار ادا کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ یوکرینی ڈرون خریدے گا اور ان کے بقول یوکرین کے ساتھ ڈرون معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کی سیکیورٹی گارنٹیز پر کام جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں روس دوبارہ یوکرین پر حملہ نہیں کرنا چاہے گا۔ ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے پر زیادہ یقین نہیں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات ایران کے 28 طیارے تباہ کیے گئے، جبکہ آج مزید ایرانی طیاروں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کے بجلی اور پانی کے منصوبوں کو بھی تباہ کیا جا سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے۔
امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے گزشتہ رات ایران کے خارگ جزیرے پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہے تو خارگ جزیرے پر قبضہ بھی کر سکتا ہے اور “وہ اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔”
اس سے قبل انقرہ میں نیٹو سیکرٹری جنرل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا نے گزشتہ رات ایران کے انتہائی خطرناک عناصر کو بھرپور طاقت کے ساتھ نشانہ بنایا،ایران میں ایسے لوگ موجود ہیں جو انتہائی خطرناک ہیں،ایران کے ساتھ سختی سے نمٹنا ضروری تھا۔
ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوسکتے ،ایرانی جوہری تنصیبات سے متعلق ہمارا دو ٹوک مؤقف ہے ،ایران کی تمام قیادت کو ختم کردیا ، اب وہاں تمام نئے لوگ ہیں ،نیٹو چیف کے ساتھ تعمیری مذاکرات ہوئے،ایران سے مذاکرات میں ہمارا کافی وقت ضائع ہوا۔
ایران سے ڈیل نہیں کرنا چاہتا،میرا خیال ہے عبوری معاہدہ ختم ہوچکا، ٹرمپ
ایران کی نیوی اور فوج کو ختم کر دیا ہے،ایران نے سعودی عرب اور قطر کے جہازوں پر حملے کیے،ایران نے ہمارے ہزاروں فوجیوں کی جانیں لیں،ایران کے معاملے پر اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا،ترکیہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہوسکتا تھا۔میں نے ترکیہ کو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے روکا، چین نے بھی ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو نے ایران کے معاملے پر امریکا کی مدد نہیں کی،اسپین کے ساتھ کوئی تجارت نہیں کرنا چاہتے،اسپین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا، وزیرخزانہ کو کہا کہ اسپین سے تجارتی روابط ختم کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔
