امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ ایران سے ڈیل نہیں کرنا چاہتے، میراخیال ہے ایران سے عبوری معاہدہ ختم ہوچکا ہے،مذاکرات کار اچھے لوگ ہیں، وہ چاہیں تو ایران سے بات کرسکتے ہیں۔
انقرہ میں نیٹو سیکرٹری جنرل کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا نے گزشتہ رات ایران کے انتہائی خطرناک عناصر کو بھرپور طاقت کے ساتھ نشانہ بنایا،ایران میں ایسے لوگ موجود ہیں جو انتہائی خطرناک ہیں،ایران کے ساتھ سختی سے نمٹنا ضروری تھا۔
امریکا کی ایران پر پھر بمباری: پاسداران انقلاب کا امریکی ڈرون مارگرانے کا دعویٰ
ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوسکتے ،ایرانی جوہری تنصیبات سے متعلق ہمارا دو ٹوک مؤقف ہے ،ایران کی تمام قیادت کو ختم کردیا ، اب وہاں تمام نئے لوگ ہیں ،نیٹو چیف کے ساتھ تعمیری مذاکرات ہوئے،ایران سے مذاکرات میں ہمارا کافی وقت ضائع ہوا۔
ایران کی نیوی اور فوج کو ختم کر دیا ہے،ایران نے سعودی عرب اور قطر کے جہازوں پر حملے کیے،ایران نے ہمارے ہزاروں فوجیوں کی جانیں لیں،ایران کے معاملے پر اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا،ترکیہ چاہتا تو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہوسکتا تھا۔میں نے ترکیہ کو اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے روکا، چین نے بھی ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو نے ایران کے معاملے پر امریکا کی مدد نہیں کی،اسپین کے ساتھ کوئی تجارت نہیں کرنا چاہتے،اسپین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا،وزیرخزانہ کو کہا کہ اسپین سے تجارتی روابط ختم کرنے کیلیے اقدامات کیے جائیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد ہونے کا امکان
گرین لینڈ اور ایران کے معاملات پر نیٹو سے خوش نہیں ہوں ،نیٹو میں امریکا کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جا رہا ہے،گرین لینڈ امریکا کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے۔نیٹو امریکا کا مشکل ترین شراکت دار ہے ،امریکا کو نیٹو کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اس موقع پر نیٹو سیکریٹری جنرل مارک روٹ کا کہنا تھا کہ ایران کے معاملے پرمیں صدر ٹرمپ کے ساتھ ہوں،گرین لینڈ سے متعلق معاہدے پر مرحلہ وار عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
