قصور (محمد سلیم بلوچ): پولیس نے 2 لڑکیوں کو ایک نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ان میں سے ایک لڑکی نے نوجوان کو بلایا اور اسے موٹر سائیکل پر قریبی گاؤں رنگ پور چلنے کو کہا۔ جب موٹر سائیکل ایک ویران جگہ پہنچی تو پیچھے بیٹھی لڑکی نے اپنے پرس سے تیزاب کی بوتل نکال کر نوجوان پر پھینکی اور موقع سے فرار ہو گئی۔
متاثرہ نوجوان، جو روزگار کے سلسلے میں ملائشیا میں مقیم تھا اور تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل پاکستان آیا تھا، نے لڑکی کے خلاف تھانہ صدر قصور میں ایف آئی آر درج کرائی۔
پولیس کو دی گئی درخواست میں نوجوان نے کہا کہ پیر کے روز وہ اپنے دوستوں کیساتھ 2 موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر چائے پینے کے لیے جارہے تھے کہ رنگ پور کے نزدیک اچانک سامنے سے ایک موٹر سائیکل آئی جس پر ملزمہ اور اس کا نامعلوم ساتھی سوار تھے، ملزمہ نے ہاتھ میں پکڑی بوتل سے میرے اوپر تیزاب پھینکا جو میرے سر، چہرہ اور آنکھوں پر آکر گرا، میری آنکھیں دھندلی ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: تیزاب گردی کا شکار لیڈی ڈاکٹر کو بچانے والے وارڈ بوائے کیلئے سول ایوارڈ کا اعلان
نوجوان نے پولیس کو مزید بتایا کہ جب وہ موٹر سائیکل سے گرا تو ملزمہ نے اس کی جیب سے 60 ہزار روپے، کاغذات وغیرہ اور آدھا تولہ وزنی طلائی چین بھی نکال لی۔
ایف آئی آر کے مطابق جناح ہسپتال کے ڈاکٹرز نے علاج کے دوران نوجوان کو بتایا کہ ان آنکھوں کی جھلی متاثر ہو گئی ہے۔
متاثرہ نوجوان نے الزام لگایا ہے کہ ملزمہ نے اس پر تیزاب اس کی سابقہ بیوی کی ایما پر پھینکا جسے نوجوان نے طلاق دے دی تھی۔
نوجوان ہماری لڑکی کو بلیک میل کر رہا تھا، ملزمہ کے اہل خانہ
ملزمہ کے اہل خانہ نے ہم نیوز کے نمائندے کو بتایا کہ مضروب نوجوان اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد اب ہماری لڑکی کو شادی کرنے کے لیے تنگ کررھا تھا۔ لگاتار میسجز کرنے، اور بار بار راستہ روکنے سمیت دیگر حرکات سے تنگ آ کر ہماری لڑکی نے اپنی دوست اور نوجوان کی سابقہ بیوی کیساتھ مل کر اس پر تیزاب پھینک دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری لڑکی کو کوئی پچھتاوا نہیں بس اس نے حالات سے تنگ آکر انتہائی قدم اٹھایا۔
تیزاب گردی کے واقعات میں اضافہ
واضح رہے کہ پاکستان میں تیزاب گردی کے واقعات عموماً خواتین کے خلاف سامنے آتے ہیں، سالانہ گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً 200 ایسے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔
تاہم حالیہ کچھ عرصے سے مردوں کے درمیان عام لڑائی جھگڑوں کے واقعات میں بھی تیزاب پھینکے کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ جس دن قصور میں دو لڑکیوں نے ایک نوجوان پر مبینہ تیزاب حملہ کیا، اسی دن لاہور کے شاہدرہ ٹاؤن میں پان شاپ پر موجود دو افراد پر تیزاب پھینکنے کے الزام میں ایک ملزم گرفتار ہوا۔
