فیفا ورلڈ کپ کے میچ کا سب سے بڑا تنازع اس وقت سامنے آیا جب مصر کے فارورڈ مصطفیٰ زیکو کا گول وی اے آر کے ذریعے ممنسوخ کر دیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فٹبالر محمد صلاح نے خوبصورت انداز میں گیند زیکو کو پاس کی جنہوں نے قریب سے گیند جال میں پہنچا دی اور خوشی میں اپنی شرٹ بھی اتار دی۔ تاہم چند لمحوں بعد وی اے آر نے گول سے قبل مصر کے ایک کھلاڑی کی جانب سے فاؤل قرار دیتے ہوئے گول منسوخ کر دیا۔
اس فیصلے پر میچ کے مبصرین نے بھی حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ معاملہ شاید وی اے آر کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، تاہم انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ کے قوانین کے مطابق اگر گول سے قبل ٹیم کی جانب سے فاؤل، آف سائیڈ یا ہینڈ بال ہو تو وی اے آر اس کا جائزہ لے کر گول منسوخ کر سکتا ہے۔
اگرچہ زیکو نے بعد میں ایک اور گول کر کے مصر کو 2-0 کی برتری دلائی، لیکن یہ برتری بھی ٹیم کو فتح نہ دلا سکی۔
کتنے پیلے کارڈز دکھائے گئے؟
ارجنٹائن کی واپسی کے دوران ریفری نے مصر کے کئی کھلاڑیوں اور آفیشلز کو پیلے کارڈز دکھائے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ شکست نہیں دھوکا تھا، ارجنٹائن سے شکست پر مصری کوچ کا سخت ردعمل
گول کیپر مصطفیٰ شوبیر کو پیلا کارڈ ملا، محمدی فتحی کو بھی وارننگ دی گئی جب کہ روان عطیہ کو فاؤل پر پیلا کارڈ دکھایا گیا۔ مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے پنالٹی نہ ملنے پر شدید احتجاج کیا، جس پر انہیں بھی پیلا کارڈ دیا گیا، جبکہ محمد صلاح نے ریفری سے بات چیت کر کے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔
