بیجنگ، چین میں بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ایک سابق سرکاری افسر کو تقریباً 2 ارب 20 کروڑ یوان رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی۔
خبر ایجنسی کے مطابق چینی عدالت نے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف کرپشن کے الزامات ناقابلِ تردید شواہد سے ثابت ہوئے ہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق سابق سرکاری افسر نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف ذرائع سے 2 ارب 20 کروڑ یوان بطور رشوت وصول کیے، جن کی مالیت پاکستانی کرنسی میں تقریباً 90 ارب روپے بنتی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ ملزم نے دورانِ تفتیش حکام سے تعاون کیا اور بعض معاملات میں اعتراف بھی کیا، تاہم جرم کی سنگینی، رشوت کی غیر معمولی مالیت اور عوامی مفاد کو پہنچنے والے نقصان کے باعث سزا میں کسی قسم کی نرمی نہیں کی جا سکتی۔
سری لنکا کی جیل میں قیدیوں کے درمیان خونی تصادم؛ 25 ہلاک، 100 زخمی
چینی عدلیہ نے واضح کیا کہ ملک میں بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے، عدالت کے مطابق چین میں ایک ارب یوان سے زائد مالیت کی کرپشن ثابت ہونے کی صورت میں سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خلاف سخت اقدامات کا مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت، احتساب اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے، جبکہ ایسے فیصلوں سے بدعنوانی کے رجحان کی حوصلہ شکنی بھی مقصود ہے۔
خیال رہے کہ چین میں کرپشن کے خلاف سخت قوانین نافذ ہیں اور ماضی میں بھی متعدد اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو اربوں یوان کی بدعنوانی پر سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔
2022 میں سابق وزیر انصاف فو ژینگ ہوا (Fu Zhenghua) کو بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر دو سالہ سزائے موت دی گئی تھی جبکہ 2024 میں ژانگ ژونگ شینگ (Zhang Zhongsheng) سمیت کئی اعلیٰ حکام کو اربوں یوان کی رشوت لینے پر سزائے موت سنائی گئی۔
