امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر حملے روکنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آگئیں۔
تیل مہنگا کرنا حکومتی مجبوری، ایران امریکا تنازع سے دنیا بھر میں قیمتیں بڑھیں، احسن اقبال
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ قیمت تقریباً ساڑھے 4 ڈالر فی بیرل کم ہونے کے بعد 84 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی، جو حالیہ دنوں کی بڑی یومیہ کمیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
اسی طرح عالمی معیار سمجھے جانے والے برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت بھی 4.86 فیصد کمی کے بعد 92 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مربان خام تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی۔ مربان آئل 9.44 فیصد سستا ہو کر 97 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جسے خلیجی منڈی میں ایک نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
تیل کی سپلائی پر ایران کا سخت مؤقف، باقر قالیباف کا بڑا اعلان
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید کم ہوتی ہے اور خطے میں امن برقرار رہتا ہے تو آئندہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی نئی پیش رفت کی صورت میں قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی معیشت، ایندھن کی طلب، اوپیک پلس کی پیداوار اور جغرافیائی سیاسی حالات آئندہ ہفتوں میں تیل کی قیمتوں کا تعین کرنے والے اہم عوامل رہیں گے، جبکہ سرمایہ کار خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
