وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے بلیو پاسپورٹ سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت یا خیبرپختونخوا اسمبلی نے اس حوالے سے کوئی نیا فیصلہ نہیں کیا، کیونکہ بلیو پاسپورٹ جاری کرنا وفاقی حکومت کا آئینی اور قانونی استحقاق ہے۔
ہم نیوز پروگرام “ہم دیکھیں گے” میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ قومی اسمبلی کے ارکان (ایم این ایز) اور ان کے بچوں کو تاحیات بلیو پاسپورٹ کی سہولت حاصل ہوتی ہے، جبکہ سینیٹرز کو بھی تاحیات بلیو پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں کے اراکین صوبائی اسمبلی (ایم پی ایز) کو پانچ سال کے لیے بلیو پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، تاہم یہ سہولت صرف ان کی مدتِ رکنیت تک محدود ہوتی ہے۔ جیسے ہی کسی رکن اسمبلی کی مدت ختم ہوتی ہے، اس کا بلیو پاسپورٹ بھی غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔
شفیع جان نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے سے متعلق حالیہ خبروں میں کوئی صداقت نہیں اور اس حوالے سے بے بنیاد تاثر دیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلیو پاسپورٹ کا معاملہ صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں بلکہ سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں میں بھی متعدد بار زیر بحث آ چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکرز کانفرنس کے دوران بھی چاروں صوبوں کے اسپیکرز نے اس معاملے پر گفتگو کی تھی اور اسپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر قومی اسمبلی کے ارکان کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت حاصل ہے تو صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو بھی اسی نوعیت کی سہولت دی جائے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی اراکین کیلئے نئی مراعات کی منظوری، ٹول ٹیکس سے بھی استثنیٰ مل گیا
دوسری طرف میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین اور صوبائی کابینہ کے ارکان پہلے سے رائج قواعد و ضوابط کے مطابق مراعات حاصل کررہے ہیں اورانہیں قانون سے ہٹ کرکسی قسم کی اضافی سہولت یا خصوصی مراعات نہیں دی گئیں۔
