ڈپٹی کمشنر زیارت کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں 2 ایچ ایس او سمیت 9 پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔
ڈپٹی کمشنر زیارت نے کہا ہے کہ مانگی فیز تھری میں دہشتگردوں کی جانب سے حملہ کیا گیا۔ رات بھر دہشتگردوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ شہید ہونے والوں میں ایس ایچ او مانگی محمد حسین اور ایس ایچ او کواس صحبت خان بھی شامل ہیں۔

دیگر شہید اہلکاروں کی شناخت عبدالباقی ولد عبدالرحمان سنجاوی، شیر محمد کواس، منصور احمد ولد محمد عمر وچہ غوسکی، سیف اللہ (اے ٹی ایف ہرنائی)، محمد اشرف سنجاوی اور آزاد خان سنجاوی کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی بھی سخت کر دی گئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کی نوعیت اور دہشت گردوں کی تعداد کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں جب کہ شہید اہلکاروں کی لاشیں ڈی ایچ کیو اسپتال زیارت منتقل کر دی گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حملے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
دہشتگردی کیخلاف جنگ پاکستان کی بقا اور استحکام کی جنگ ہے، مریم نواز کا شہدا کو خراج عقیدت
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں پوری قوم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ درحقیقت پاکستان کی بقا، امن اور استحکام کی جنگ ہے، جس میں پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کا قاتل 9 گھنٹے میں گرفتار
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد میں کسی قسم کی لچک نہیں آئے گی اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
