اسلام آباد: آئی جی اسلام آباد نے کہا ہے کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کے قاتل کو واقعے کے بعد 9 گھنٹے میں گرفتار کر لیا گیا۔
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے ڈی آئی جی آپریشن جواد طارق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے نائنتھ ایونیو میں افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ اور یہ کیس ہمارے لیے بہت اہم تھا۔
انہوں نے کہا کہ ملزم سعد عباسی اور خاتون میلوڈی کے کیش اینڈ کیری پر ساتھ کام کرتے تھے۔ اور آج ملزم خاتون کو زبردستی کسی پارک یا کسی اور جگہ لے جانا چاہتا تھا۔ لیکن خاتون کیش اینڈ کیری کے علاوہ کہیں اور نہیں جانا چاہتی تھی۔
علی ناصر رضوی نے کہا کہ ملزم اس سے قبل بھی لڑکی کو دو بار گھر سے پک کر چکا تھا۔ تاہم ملزم نے لڑکی کو آج کام کی جگہ پر جانے کی بجائے کہیں اور لے جانے کی کوشش کی۔ لیکن لڑکی نے کسی اور جگہ جانے سے انکار کیا تو شاہین چوک کے پاس دونوں کے درمیان تکرار ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید اپنے دفتر سے جا رہے تھے کہ انہوں نے تکرار دیکھ کر ملزم کو خاتون سے بدسلوکی سے منع کیا۔ لیکن ملزم نے گروپ کیپٹن عاصم طارق کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ اور موقع سے فرار ہو گیا۔
آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ملزم سعد عباسی کے دماغ میں شیطانیت سوار تھی۔ گروپ کیپٹن نے حب الوطنی اور جرات کا مظاہرہ کیا۔
علی ناصر رضوی نے کہا کہ پولیس نے واقعے کے بعد فوری طور پر تفتیش کا آغاز کیا۔ اور واقعہ کے بعد 9 گھنٹے میں ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی پروپیگنڈے سے حقیقت نہیں بدلے گی، وزیر دفاع کا دوٹوک مؤقف
انہوں نے کہا کہ اس کیس کے پیش نظر تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔ اور اس کیس کو دیکھنے کے لیے 11 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
