ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا 10 کلومیٹر طویل تعزیتی جلوس رواں دواں ہے۔ جس میں لاکھوں افراد شریک ہیں۔
تہران کی سڑکوں پرلاکھوں افراد تصاویر اٹھا کر رہبر اعلیٰ کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں، جلوس میں شہید سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد ، بہو اورنواسی کے جسد خاکی خصوصی گاڑی میں رکھے گئے ہیں۔
تہران میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ متعدد اہم شاہراہوں کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ ٹریفک اور عوامی نقل و حمل کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
جنازہ جلوس تقریباً 10 کلومیٹر طویل راستے سے گزرے گا اور امام حسین اسکوائر،انقلاب اسٹریٹ،انقلاب اسکوائر، آزادی اسکوائر اورشاہد لشگری ہائی وے سے ہوتا ہوا مہر آباد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب پہنچ کر اختتام پذیر ہو گا۔
شرکا کو گرمی سے بچانے کیلئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں،ایرانی شہید رہبر اعلی کے جسد خاکی کو منگل کے روز مقدس شہر قم منتقل کیا جائے گا۔
شہید آیت اللہ خامنہ ای کے قاتل اپنے انجام سے نہیں بچ سکیں گے ، ایرانی آرمی چیف
بدھ کے روز عراق کے شہر نجف اور کربلا میں آخری دیدار اور تعزیتی تقریبات ہوں گی،ج معرات کے روز جسد خاکی کو مشہد میں امام رضا کے روضے کی حدود میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ گزشتہ روز تہران کی گرینڈ مصطیٰ کمپلکیس میں ادا کی گئی ۔ جنازے میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی اسپیکر باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ حکام سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی صاحبزادی، بہو، داماد اور کمسن نواسی کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی تھی ، ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ جعفر سبحانی نے شہید ایرانی سپریم لیڈر کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔
سیاسی اور مذہبی مبصرین کے مطابق ایران کی حالیہ تاریخ میں یہ سب سے بڑی عوامی سوگ تقریبات میں سے ایک قرار دی جا رہی ہے۔
