ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد حالات بدل چکے ہیں ، اب امریکا کو تجارت کے حوالے سے موجودہ حقائق کو تسلیم کرنا ہو گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ازبکستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر سے ملاقات کے دوران باقر قالیباف نے کہا کہ جنگ کے بعد حالات ماضی کے مقابلے میں بہتر ہوئے ہیں ، حالیہ پیشرفت نے امریکا کو نئے حقائق قبول کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ماحول میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے ، امید ہے کہ مستقبل میں پابندیاں اٹھانے کی بنیاد بھی تیار ہو جائے گی۔
آئی اے ای اے کو کسی صورت جوہری تنصیبات تک رسائی نہیں دیں گے، باقر قالیباف
ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایران اور عمان کے مشترکہ انتظام اور خطے میں امریکی سرگرمیوں میں کمی کے باعث ٹرانزٹ تعاون کو فروغ دینے کے لیے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔
علاوہ ازیں چینی پیپلز کانگریس کے نائب صدر سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین ایران کے درمیان سیاسی اقتصادی تعاون کو سراہتے ہیں ، دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات کومزید فروغ دیں گے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ ایران چین کے مضبوط تعلقات دنیا میں کشیدگی کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوں گے، چین ایسا ملک ہے جو مشکل اوقات میں ہمارے ساتھ کھڑا رہا ہے، آبنائے ہرمز میں چینی جہازوں کی آمدورفت سے متعلق مسائل حل کر دیے ہیں تاہم امریکا کو آبنائے ہرمزمیں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔
مفاہمتی یادداشت پر متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں ، امریکا واضح موقف اختیار کرے ، اسماعیل بقائی
انہوں نے کہا کہ اسرائیل امریکا کے ساتھ ہوئے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے گا، خطے میں ایران کی دفاعی قوت اسرائیل کو جنگ دوبارہ شروع کرنے سے روک دے گی، منظم حکمتِ عملی، درست سیاسی اقدامات کے ذریعے ان کشیدگیوں کو کم کرنا ہو گا۔
اس موقع پرچینی پیپلز کانگریس کے نائب صدرنے کہا کہ چین اور ایران کی دوستی بہت قدیم ہے، دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ دیں گے۔
