ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی نے آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ قانون کا جائزہ لیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ عدالتی، اقتصادی اور سول کمیٹیاں بھی مجوزہ قانون پر غور کر رہی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، بل کا مقصد آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری مؤثر بنانا اور جہازوں پر فیس عائد کرنا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا آبنائے ہرمز سے بچنے کیلئے نئی بندرگاہ بنانے کا فیصلہ
ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر نے بتایا کہ مجوزہ قانون کے تحت اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہو گی، دشمن ممالک کے جہازوں کو جنگی نقصانات کے ازالے تک اجازت نہیں دی جائے گی۔
دوسری جانب الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر چار جہازوں کو وارننگ دے کر آگے بڑھنے سے روک دیا گیا ہے۔
آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ جو بھی بحری جہاز غیر منظور شدہ راستوں کا استعمال کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عبور کرنے کی کوشش کرے گا اسے طاقتور ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چند روز قبل بھی پاسداران انقلاب کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی فوج کی معاونت اور رہنمائی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار جہازوں کو میزائل اور ڈرون کارروائی کے دوران روک دیا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی بحالی کے انتظامات ایران خود طے کرے گا، عباس عراقچی
دوسری جانب گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ ایران کے منجمد فنڈز سے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پر جہازوں کو پہنچنے والا نقصان بہت زیادہ ہو سکتا ہے، ایران کے پیسوں سے ادائیگی ہی منصفانہ راستہ ہے۔
