عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ پانچ ہفتوں میں پہلی بار ہفتہ وار بنیاد پر بہتری کی جانب گامزن ہے، جس کی وجہ امریکی شرح سود میں اضافے کی توقعات میں کمی بتائی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعہ کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں ایک فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4,165 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ اس سے قبل قیمت 23 جون کے بعد بلند ترین سطح کو بھی چھو گئی۔ امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق توقع سے کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار نے مہنگائی اور شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات کو کم کر دیا ہے، جس کے باعث سونے کی قیمتوں کو سہارا ملا۔ جون میں نان فارم پے رولز میں صرف 57 ہزار ملازمتوں کا اضافہ ہوا، جو ماہرین کی 110 ہزار کی پیشگوئی سے کہیں کم ہے۔
ڈالر کی قدر میں ہفتہ وار کمی بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بنی، جس سے دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سونا سستا ہو گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ شرح سود میں اضافے کی توقعات کم ہوئی ہیں، تاہم یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں، اور سال کے آخر میں سونے کی قیمتوں پر دوبارہ دباؤ آ سکتا ہے۔
دوسری جانب ورلڈ گولڈ کونسل کے مطابق مرکزی بینکوں نے مئی میں سونے کی خریداری دوبارہ شروع کر دی، جس کے تحت عالمی ذخائر میں 41 ٹن کا خالص اضافہ ہوا۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتیں ایک ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں۔
