امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے نیویارک کی میڈیکیڈ فراڈ کنٹرول یونٹ کی وفاقی فنڈنگ بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یونٹ نے فراڈ کے خلاف کارروائی میں مطلوبہ کارکردگی نہیں دکھائی، جس سے ریاست کی کم آمدنی والے افراد کے لیے وفاقی صحت فنڈنگ بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
امریکی محکمہ صحت و انسانی خدمات (HHS) نے نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران نیویارک نے دیگر بڑی ریاستوں کے مقابلے میں میڈیکیڈ فراڈ سے متعلق کم فوجداری مقدمات قائم کیے، اسی بنیاد پر یونٹ کی وفاقی سرٹیفکیشن منسوخ کی جا رہی ہے۔
لیٹیشیا جیمز، جو اس یونٹ کی نگرانی کرتی ہیں، نے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے صرف وہ مجرم فائدہ اٹھائیں گے جن کے خلاف ان کی ٹیم روزانہ کارروائیاں کرتی ہے۔ اس فیصلے کو روکنے کے لیے تمام قانونی راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
حکومت کا جعلی ادویات کی روک تھام کیلئے نیا ماسٹر پلان سامنے آگیا
محکمہ صحت نے اپنے بیان میں تسلیم کیا کہ نیویارک کی یونٹ نے دیوانی مقدمات میں مؤثر نتائج حاصل کیے ہیں اور رواں سال فوجداری مقدمات میں بھی بہتری آئی ہے، یہ بہتری وفاقی معیار پر پورا اترنے کے لیے کافی نہیں۔
رپورٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس مختلف وفاقی اداروں کے اشتراک سے جاری فراڈ کے خلاف کریک ڈاؤن کی نگرانی کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ جے ڈی وینس کو 2028 کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے ممکنہ امیدواروں میں بھی شمار کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل رواں ماہ ٹرمپ انتظامیہ ہوائی کی میڈیکیڈ فراڈ یونٹ کی فنڈنگ بھی روک چکی ہے، تاہم ریاست نے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دے رکھی ہے۔
اگر کسی ریاست کی میڈیکیڈ فراڈ یونٹ وفاقی سرٹیفکیشن سے محروم ہو جائے تو اس کی مجموعی میڈیکیڈ فنڈنگ بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
بچوں میں شوگر کی بیماری کو ایک خاص وقت تک روکنے والی دنیا کی پہلی دوا کی منظوری
اعداد و شمار کے مطابق نیویارک میں تقریباً 64 لاکھ افراد میڈیکیڈ پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، جو کم آمدنی والے امریکی شہریوں کے لیے صحت کی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔
گزشتہ ہفتے اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے 90 لاکھ ڈالر کی مبینہ میڈیکیڈ فراڈ اسکیم میں ملوث ایک شخص کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ ریاستی حکام کے مطابق نیویارک نے 2019 سے 2025 کے دوران میڈیکیڈ فراڈ کے مقدمات سے مجموعی طور پر 627.8 ملین ڈالر کی ریکوری کی ہے۔
