فیفا ورلڈ کپ میں الجیریا اور آسٹریا کے درمیان کھیلا گیا میچ تین تین گول سے برابر رہا۔
گروپ جے کے آخری میچ کے نتیجے نے نئی بحث کو جنم دیا۔ میچ ڈرا ہونے کی وجہ سے دونوں ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ گئیں جبکہ ایران ایونٹ سے باہر ہو گیا۔
اس سارے معاملے پر ایران کے شائقین نے شدید اعتراض کیا اور فیفا سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، میچ کے بعد الجیریا کے کپتان ریاض محرز کے دیے گئے بیان کی وجہ سے معاملہ مزید مشکوک ہو گیا ہے۔
ریاض محرز نے کہا کہ صورتحال کچھ عجیب تھی، ہم لوگ تیزی کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہے تھے اس کے برعکس آسٹریا کے کھلاڑی زیادہ تر پیچھے رہ کر کھیل رہے تھے۔
🇩🇿 Truth is out. Algeria's captain Mahrez admits: "I had to score against Austria. I know it's embarrassing." Translation: the result was fixed. They advance. Iran pushed out. This is cheating. Now FIFA must investigate. But they won't. 🇮🇷 pic.twitter.com/Hkj8X642Wo
— Mohamad Al Shami محمد الشامي (@mamashami2) June 28, 2026
ان کا کہنا تھا کہ آخری لمحے میں گیند میرے پاس آئی تو میرے پاس گول کرنے کی کوشش کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا، ریاض محرز نے کہا کہ میں کھیل کے اصولوں اور فٹ بال کا احترام کرتا ہوں۔
الجیرین کپتا ن نے کہا کہ ان کے لیے اچھی بات یہ ہوئی کہ آسٹریا نے بھی گول کر لیا اور وہ بھی کوالیفائی کر گئے، ہم دونوں اگلے مرحلے میں پہنچ گئے اور آج یہی سب سے اہم بات تھی۔
ریاض محرز نے اپنے انجری ٹائم کے گول کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ یہ ایک شرمندگی والی صورتحال تھی لیکن گیند میرے پاس آئی تو میں کیا کرتا؟
الجیرین کپتان کے بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر میچ فکسنگ سے متعلق قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں تاہم اب تک فیفا یا کسی متعلقہ ادارے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان نہیں آیا ہے۔
سعودی فٹبال فیڈریشن کے صدر نے قومی ٹیم کے فیفاورلڈ کپ سے باہر ہونے پر استعفیٰ دیدیا
اس موقع پر ایرانی شائقین نے میچ کی متعدد ویڈیوز شیئر کیں اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ بعض لمحات میں دونوں ٹیمیں جیت کی سنجیدہ کوشش کرتی نظر نہیں آئیں۔
دوسری طرف آسٹریا کے کوچ رالف رانگنک نے کسی بھی خفیہ سمجھوتے کی تردید کی ہے اور کہا کہ اگر یہ پہلے سے طے شدہ مقابلہ ہوتا تو ایسا ڈرامائی اختتام کبھی شائقین کو دیکھنے کو نہ ملتا۔
