انگلینڈ کے اسٹار آل راؤنڈر اور ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اچانک اعلان کر دیا، جس کے ساتھ ہی ان کا 15 سالہ شاندار بین الاقوامی کیریئر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
بین اسٹوکس نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹرینٹ برج میں جاری تین میچوں کی ٹیسٹ سیریز کے فیصلہ کن مقابلے کے چوتھے روز اپنے فیصلے سے ساتھی کھلاڑیوں اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) کو آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق اسٹوکس نے میچ سے قبل پریس کانفرنس کے دوران اس امکان کو مسترد نہیں کیا تھا کہ یہ ٹیسٹ میچ ان کے کیریئر کا آخری بین الاقوامی مقابلہ ثابت ہو سکتا ہے۔
34 سالہ بین اسٹوکس نے انگلینڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں کئی یادگار کامیابیاں اپنے نام کیں۔ وہ 2022 سے انگلینڈ کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کر رہے تھے اور ان کی کپتانی میں ٹیم نے جارحانہ اندازِ کرکٹ کو فروغ دیتے ہوئے کئی اہم فتوحات حاصل کیں۔
View this post on Instagram
ان کی ریٹائرمنٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وہ حال ہی میں ایک تنازع کا بھی سامنا کر چکے تھے۔ لارڈز ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد چیلسی کے ایک نائٹ کلب میں ہونے والی دیر رات کی تقریب کے باعث انگلینڈ کرکٹ بورڈ اور کرکٹ ریگولیٹر نے ان کے طرزِ عمل کی تحقیقات کی تھیں، جس کے نتیجے میں انہیں تحریری وارننگ دی گئی، تاہم مزید کسی کارروائی کے لیے انہیں ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔

اسی معاملے کے باعث بین اسٹوکس نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کا دوسرا ٹیسٹ، جو اوول میں کھیلا گیا، نہیں کھیل سکے تھے۔اس کے باوجود وہ تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میں ٹیم میں واپس آئے اور انگلینڈ کو میچ میں واپسی دلانے کی کوشش میں طویل اسپیلز کرائے۔
بین اسٹوکس کی ریٹائرمنٹ کو انگلش کرکٹ کے ایک سنہری دور کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ شائقین اور سابق کرکٹرز کی جانب سے ان کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
