پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام یا کسی موجودہ صوبے کی حدود میں تبدیلی کا معاملہ صرف سیاسی خواہش یا انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ آئینِ پاکستان کے تحت ایک واضح اور سخت قانونی طریقۂ کار سے مشروط ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت میں شامل 2 اہم وفاقی وزرا ، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی جانب سے ملک میں انتظامی اصلاحات کیلئے’’نئے یونٹس‘‘ بنانے کے مطالبے کے بعد نئے صوبوں کے قیام پر بحث زور پکڑ گئی ہے۔
آئین کی شق 239 کی ذیلی شق (4) اس حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے اور واضح کرتی ہے کہ کسی بھی صوبے کی تقسیم یا حدود میں رد و بدل کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پارلیمان دونوں کی منظوری ناگزیر ہے۔

اگر کسی صوبے کو تقسیم کر کے ایک یا ایک سے زائد نئے صوبے قائم کرنے کی تجویز پیش کی جائے تو سب سے پہلے اس صوبے کی اسمبلی کو اس تجویز کی حمایت کرنا ہوگی۔ تاہم یہ منظوری سادہ اکثریت سے نہیں بلکہ اسمبلی کے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ‘کاکروچ’ اکٹھے ہو گئے تو ہر چیز الٹ سکتے ہیں، تباہ سسٹم کا حل ‘نئی یونٹس’ ہیں، محسن نقوی
آئین کے آرٹیکل 239 کی ذیلی شق (4) میں واضح طور پر درج ہے کہ آئین میں ایسی کوئی بھی ترمیم، جس کے نتیجے میں کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی واقع ہو، صدرِ مملکت کی منظوری کے لیے اُس وقت تک پیش نہیں کی جا سکتی جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی اپنے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری نہ دے دے۔
نئے صوبے پاکستان کی قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں،ماہرین
اس کے بعد آئینی ترمیمی بل کو پارلیمان سے بھی منظور کرانا ضروری ہوتا ہے۔ چونکہ صوبے کی حدود میں تبدیلی آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے، اس لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں میں بھی آئینی ترمیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنا لازم ہے۔ پارلیمان سے مطلوبہ اکثریت حاصل ہونے کے بعد ہی بل صدرِ مملکت کی منظوری کے لیے بھجوایا جا سکتا ہے۔
نئے صوبے بنانے کا بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں پیش، صوبوں سے مشاورت کا فیصلہ
آئینی طریقۂ کار کا مقصد وفاقی اکائیوں کے حقوق کا تحفظ اور صوبائی خودمختاری کو یقینی بنانا ہے، تاکہ کسی بھی صوبے کی حدود میں تبدیلی متعلقہ صوبے کی رضامندی کے بغیر ممکن نہ ہو۔
پاکستان کی آئینی تاریخ میں اس شق کا ایک نمایاں استعمال سنہ 2018 میں دیکھنے میں آیا، جب 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا۔ اس ترمیم کے لیے بھی آئین میں مقرر کردہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔
نئے صوبے بننے چاہئیں، کوئی مضائقہ نہیں، خواجہ آصف
اگر مستقبل میں جنوبی پنجاب، ہزارہ یا کسی دوسرے نئے صوبے کے قیام کی تجویز سامنے آتی ہے تو اس کے لیے بھی یہی آئینی طریقۂ کار اختیار کرنا ہوگا۔ یعنی متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی حمایت، پارلیمان کی آئینی منظوری اور بعد ازاں صدرِ مملکت کی توثیق کے بغیر کسی نئے صوبے کا قیام ممکن نہیں۔
