کیلیفورنیا: میٹا کے چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے باعث کروڑوں افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہو جائیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق میٹا کے چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اے آئی کے مستقبل کا انحصار خود ٹیکنالوجی سے زیادہ اس بات پر ہے کہ اس کا کنٹرول کس کے پاس ہوتا ہے۔
انہوں ںے کہا کہ جدید مصنوعی ذہانت کا اختیار حکومتوں یا چند طاقتور اداروں کے بجائے زیادہ سے زیادہ عام لوگوں کے پاس ہونا چاہیے تاکہ اس کے فوائد وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچ سکیں۔
مارک زکربرگ نے کہا کہ اگر اے آئی تک عام افراد کی رسائی ممکن بنائی جائے تو اس سے نئے کاروباری مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ زیادہ لوگ اپنے کاروبار شروع کر سکیں گے اور روزگار کے نئے امکانات بھی سامنے آئیں گے۔
انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اے آئی پر کام کرنے والے بعض ماہرین خود یہ پیش گوئی کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم کر دے گی اور انسانوں کا کردار محدود ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے نزدیک یہ ٹیکنالوجی واقعی اتنی خطرناک ہے تو پھر اس کی تیز رفتار ترقی پر کام جاری رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
مارک زکربرگ نے کہا کہ ان کے نزدیک مصنوعی ذہانت ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے، جو لوگوں کو نئی مہارتیں سیکھنے، اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے اور زندگی میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: صرف اسکرولنگ کریں اور ہزاروں ڈالر کمائیں،ایکس نے بڑی پیشکش کردی
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ میں آنے والی متعدد انقلابی ٹیکنالوجیز نے بھی ابتدا میں خدشات کو جنم دیا، مگر بعد میں انہی ٹیکنالوجیز نے معاشی ترقی، نئی صنعتوں اور روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کیے۔
