وفاقی وزیر مواصلات و صدر آئی پی پی عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی انتظامی اصلاحات پر باتیں انتہائی غور طلب اور وقت کی ضرورت ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر اپنےپیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی آبادی اور انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر ہر صوبے کو تین صوبوں(انتظامی یونٹس) میں تقسیم کیا جائے ۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب نے انتظامی اصلاحات اور حکومتی امور کے حوالے سے جو اہم باتیں کی ہیں، وہ انتہائی غور طلب اور وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ میں یہ بات کافی عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور پیچیدہ انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر ہر صوبے کو انتظامی بنیادوں پر…
— Abdul Aleem Khan (@abdul_aleemkhan) July 31, 2026
موجودہ صوبوں کو نارتھ، سینٹرل اور ساؤتھ کے نام سے تین تین صوبوں میں تقسیم کیا جائے،اس طرح سے کسی بھی صوبے کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ۔
صوبوں کی اس تقسیم سے تمام علاقوں کی تاریخی و ثقافتی شناخت مکمل طور پر برقرار رہے گی ،نئے صوبے بننے سے عوام کے تمام مسائل کا پائیدار حل ممکن ہو سکے گا ۔
صدر آئی پی پی نے مزید کہا کہ شہریوں کو چھوٹے کاموں کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا لمبا سفر کر کے دارالحکومتوں جانا پڑتا ہے ،اگر نئے صوبے بن جائیں اور مسائل دہلیز پر حل ہوں تو آخر کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے؟ہاں اگر کسی کی ‘بادشاہت’میں کمی آتی ہے تو وہ ایک الگ بات ہے۔لیکن پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جس میں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں ۔
نئے صوبے بنانے کا بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں پیش، صوبوں سے مشاورت کا فیصلہ
نئے صوبوں کے قیام سے شہریوں کو طویل اور دشوار سفر نہیں کرنا پڑے گا ،نئے صوبوں سے چیف سیکریٹری، آئی جی اور ہائی کورٹس زیادہ مؤثر اور فوری خدمات فراہم کریں گے ۔
انہوں نے کہا گزشتہ کئی دہائیوں سے نئے صوبوں کے قیام کی بات صرف سیاسی نعروں تک محدود رہی ہے،اب وقت ہے کہ تمام سیاسی بصیرت کو ایک پیج پر لا کر اس وژن کو حقیقت بنایا جائے۔
نئے صوبے ملک کو تقسیم نہیں کریں گے بلکہ قومی یکجہتی کو مضبوط اور مستحکم بنائیں گے ،نئے صوبوں کی تشکیل سے معیشت مستحکم اور تمام علاقوں میں ترقی متوازن ہوگی ۔
یا د رہے گزشتہ روز اسلام آباد میں منعقدہ اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ نظام میں بنیادی اصلاحات کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا، نئے انتظامی یونٹس پر سنجیدہ غور کیا جائے۔
سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش معاشی، انتظامی اور سماجی مسائل کا حل صرف بنیادی اصلاحات میں ہے۔
موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے، اس لیے عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف، روزگار اور حکومتی سہولیات فراہم کرنے کے لیے نئے انتظامی یونٹس، مؤثر گورننس اور جامع اصلاحات پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔
