اسلام آباد اور راولپنڈی میں مون سون کی موسلا دھار بارش سے کئی شاہراہیں، انڈر پاس، رہائشی علاقے اور بازار زیر آب آگئے جبکہ متعدد مقامات پر گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں تین گھنٹوں کے دوران 45 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ مری میں 40 ملی میٹر اور ملتان ایئرپورٹ پر 37 ملی میٹر بارش ہوئی۔
وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی-6، جی-7، جی-8، ای-11 سمیت دیگر علاقوں میں موسلا دھار بارش کے باعث سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا۔ سیونتھ ایونیو انڈر پاس میں پانی بھرنے سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی جبکہ متعدد گاڑیاں بارش کے پانی میں بند ہوگئیں۔
بارہ کہو چوک مسلسل بارش کے باعث تالاب کا منظر پیش کرنے لگا، جہاں کھڑی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پانی میں ڈوب گئیں، کئی مقامات پر پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا اور شہری اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالنے میں مصروف رہے۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا تھا کہ وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کا عملہ بروقت امداد کے لیے نہ پہنچ سکا، جبکہ شدید بارش کے باعث کئی سیکٹرز میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی۔
اسلام آباد کے علاقے غوری ٹاؤن فیز فور میں بھی بارش کا پانی گلیوں اور گھروں میں داخل ہوگیا، جس سے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مون سون بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ محکموں کا عملہ فیلڈ میں موجود ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل صاحبزادہ یوسف کی ہدایت پر نکاسی آب آپریشن کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور نشیبی علاقوں میں اضافی سینیٹیشن اسٹاف تعینات کیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق شہر بھر میں نکاسی آب کا عمل تیزی سے جاری ہے، نالوں کی قبل از وقت صفائی اور خصوصی مانیٹرنگ ٹیموں کی تشکیل کے باعث بیشتر شاہراہوں پر ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔
ادھر راولپنڈی میں بھی موسلا دھار بارش کے باعث متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے، نالہ لئی میں پانی کی سطح بڑھ گئی، جہاں گوالمنڈی کے مقام پر پانی 7 فٹ جبکہ کٹاریاں کے مقام پر 7.5 فٹ تک پہنچ گیا۔ ریسکیو اور واسا کا عملہ نشیبی علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
آفندی کالونی، ڈھوک کالا خان، شکریال، فوجی کالونی، مگھا سنگھ اسٹیٹ اور دیگر علاقوں کی گلیوں میں بارش کا پانی داخل ہوگیا، جبکہ ڈھوک مٹکال میں شہری بالٹیوں کے ذریعے گھروں سے پانی نکالتے رہے، جناح پارک انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
ایک افسوسناک واقعہ مصریال روڈ کی فرینڈز کالونی میں پیش آیا، جہاں کھیلتے ہوئے ایک بچہ برساتی نالے میں گر کر ڈوب گیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور بچے کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔
دریں اثنا راجہ بازار بھی بارش کے پانی میں ڈوب گیا، حال ہی میں ماڈل بازار کے طور پر تیار کیے گئے اس علاقے میں پانی دکانوں کے اندر داخل ہوگیا، جس سے تاجروں کو لاکھوں روپے مالیت کا نقصان اٹھانا پڑا۔
فوارہ چوک اور اطراف کی شاہراہیں بھی زیر آب رہیں، جبکہ شہریوں نے نکاسی آب کے ناقص انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ بارش کے باعث دونوں شہروں میں ٹریفک کا نظام بھی شدید متاثر رہا اور شہریوں کو آمدورفت میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
راولپنڈی میں مون سون کی حالیہ بارشوں کے بعد واسا نے نکاسی آب کا آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ ترجمان واسا کے مطابق ایم ڈی واسا عزیز اللہ خان نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالرحمان کے ہمراہ شہر کے مختلف نشیبی علاقوں کا دورہ کیا اور نکاسی آب کے انتظامات کا جائزہ لیا۔
ایم ڈی واسا نے بتایا کہ ڈھوک کھبہ، ملت کالونی، صادق آباد، مسلم ٹاؤن سمیت دیگر متاثرہ علاقوں سے بارشی پانی مکمل طور پر نکال دیا گیا ہے جبکہ شہر کی تمام اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق بحال ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نالہ لئی اور شہر کے دیگر نالوں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے اور اس وقت کسی بھی مقام پر سیلابی خطرہ نہیں۔ مزید مون سون بارشوں کے پیش نظر واسا کو ہائی الرٹ رکھا گیا ہے، جبکہ تمام متعلقہ عملہ، ہیوی مشینری اور ریسپانس ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں۔
ایم ڈی واسا عزیز اللہ خان نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا نکاسی آب سے متعلق شکایت کی صورت میں فوری طور پر واسا ہیلپ لائن سے رابطہ کریں تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
