امریکی فوج کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں شمالی عراق میں ایرانی ڈرون حملے سے متعلق کارروائی کے دوران ایک امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بیان میں بتایا کہ واقعہ 18 جولائی کو اس وقت پیش آیا جب امریکی اہلکارایرانی ڈرون کو مارگرائے جانے کے بعد باقی رہ جانے والے گولہ بارود کو کنٹرولڈ دھماکے کے ذریعے ناکارہ بنانے کی کارروائی میں مصروف تھے۔
اسی دوران دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں ایک امریکی فوجی جان کی بازی ہارگیا۔
سینٹکام کے مطابق واقعے کے بعد فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ مکمل تلاش کے دوران جائے وقوعہ سے نامعلوم انسانی باقیات بھی برآمد ہوئی ہیں، جن کی شناخت اور تصدیق کا عمل جاری ہے۔
CENTCOM Update on Recently Fallen U.S. Service Members
TAMPA, Fla. — Yesterday, U.S. Central Command (CENTCOM) announced the passing of two U.S. service members and the missing status of one in Jordan following an Iranian attack on July 17. After a thorough search, U.S.…
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 19, 2026
امریکی حکام نے واقعے کی مزید تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں تاکہ دھماکے کی نوعیت اور دیگر حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل اردن میں ایران کے میزائل حملے میں بھی امریکی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک، ایک اہلکار لاپتا جبکہ چار فوجی زخمی ہوگئے تھے۔
ایران مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے یا نہ کرے ، مجھے کوئی پرواہ نہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ
مسلسل حملوں اور جانی نقصانات کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی سلامتی اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
مبصرین کے مطابق حالیہ واقعات امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں، جبکہ خطے میں فوجی تناؤ برقرار رہنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
