تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ ایران اپنے بحال ہونے والے منجمد اثاثوں کی رقم سے امریکی زرعی مصنوعات خریدے گا۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں امریکی مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے کہ ایران بحال شدہ اثاثوں کے ذریعے امریکی زرعی اجناس خریدے گا۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “امریکا کی واحد فصل جو ہم نے دیکھی ہے وہ بے اعتمادی ہے، جو خالصتاً مقامی پیداوار ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ امریکی دعوے اس بات کا ثبوت ہیں کہ واشنگٹن جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویا بین، ٹوٹے ہوئے وعدے اور بے بنیاد بیانات برآمد کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔
America falsely claims our unfrozen assets will buy their agriculture. Interesting. The only crop we’re harvesting is what you planted: decades of mistrust. It’s organic, abundant, and homegrown. But apparently the US only exports GMO soybeans, broken promises and trash talks.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) June 25, 2026
باقر قالیباف کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کے بعد یہ فنڈز محدود مقاصد کے لیے استعمال ہوں گے۔
اس سے قابل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت ایران کے 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے۔ تاہم یہ رقم ایک مخصوص اکاؤنٹ میں رکھی جائے گی اور اسے صرف امریکی کسانوں سے مکئی، گندم، سویا بین اور ادویات کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، اسپین میں 4 روز کے دوران 212 اموات
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی اس مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ قطر کی نگرانی میں یہ فنڈز امریکی زرعی منڈی کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال ہوں گے۔
