وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کا ردعمل آ گیا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ خواجہ آصف نے ملاقاتوں کا ذکر کیا ، میں ایف اے ٹی ایف کے بلز پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سہولت کاری کر رہا تھا، افسران اینٹی منی لانڈرنگ اور ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ بلز پر ان پٹ دے رہے تھے۔
خیبر پختونخوا کودہائیوں سے جنگوں نے تباہ کیا، مزید لڑائی کی گنجائش نہیں بچی، اسد قیصر
انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف بتائیں کہ کیا 8 فروری 2024 کا الیکشن ان کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ کیا خواجہ آصف عام انتخابات میں ریحانہ ڈار سے بڑی لیڈ سے نہیں ہارے تھے؟۔
انہوں نے کہا کہ اگر خواجہ آصف کے ضمیر پر بوجھ ہے تو وہ مبینہ چوری کی گئی سیٹ سے فوری استعفیٰ دیں، خواجہ آصف ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے آئیں اور دوبارہ ریحانہ ڈار کیخلاف الیکشن لڑ لیں۔
گزشتہ روز بھی اسد قیصر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ موازنہ کیا جائے کہ موجودہ اور سابقہ ادوار میں کتنا قرض لیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت کسی ایک شعبے میں بھی ایسا ریلیف بتائے جو عوام کو دیا گیا ہو۔
گورنر راج لگانے کی کسی میں ہمت نہیں، اسد قیصر
انہوں نے پنجاب میں گندم کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو 2.2 کھرب روپے کا نقصان پہنچا ہے اور زرعی طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔
اسد قیصر نے مزید کہا تھا کہ ملک میں سرمایہ کاری میں کمی ہوئی ہے جبکہ 90 ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک چھوڑ چکی ہیں، جس کے باعث بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔
