تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل پر کسی بھی نوعیت کا حملہ کیا گیا تو پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایرانی قیادت کو خبردار کر رہے ہیں کہ اسرائیل پر حملے کی صورت میں فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ اسرائیل پر حملہ ہو گا اور وہ خاموش رہے گا۔ وہ وقت گزر چکا ہے جب اسرائیل پر حملے ہوتے تھے اور اس کی جانب سے فیصلہ کن ردعمل نہیں دیا جاتا تھا۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز جنگ یا دھمکیوں کے ذریعے نہیں کھلے گی۔ امریکا کو عالمی قوانین اور ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔
ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت یا معاہدوں کی مبینہ خلاف ورزی کو قبول نہیں کرے گا۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے ایک معاہدے کے تحت عارضی طور پر 60 روز کے لیے ٹول فری آمدورفت کی اجازت دی تھی، تاہم امریکا نے مبینہ طور پر دھوکا دہی کے ذریعے وہاں غیر قانونی راستہ بنانے کی کوشش کی، جسے ایران نے ناقابل قبول قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس لینے کا فیصلہ واپس لے لیا
ایران فوج کے سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ امریکا ایران کے حقوق کا احترام کرے۔
