امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث توانائی بحران دوبارہ سر اٹھانے لگا ، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
منگل کے روز عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید ہلچل دیکھنے میں آئی، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی جھڑپوں نے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں رکاوٹ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
تازہ ترین جھڑپوں کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ دنیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں مختلف نوعیت کے ردِعمل سامنے آئے۔
مٹی کا تیل 11 روپے ، 19 پیسے مہنگا ، پیٹرول پر لیوی میں بھی اضافہ
برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 86 سے 87 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ امریکی بینچ مارک ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس کے علاوہ اماراتی مربن خام تیل 83.16 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔
گزشتہ روز دونوں کی قیمتوں میں تقریباً 3 سے 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس اضافے کے باعث برینٹ کی قیمت تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تو تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل کے قریب جا سکتی ہیں۔
تیل مزید مہنگا، سونے کی عالمی قیمت میں بڑی کمی
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق سفارتی کوششیں کامیاب ہونے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جانے کی صورت میں برینٹ تیل کی قیمتیں 75 سے 80 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہ سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال تیل کی قیمتوں میں جنگی خطرات کا اضافی اثر شامل ہے، تاہم دونوں فریقوں کے پاس سفارتی حل تلاش کرنے کی وجوہات موجود ہیں، اس لیے قیمتوں کا رخ مکمل طور پر ایک طرف نہیں ہے۔
