واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے ساتھ بڑے تیل معاہدوں کا اعلان کر دیا۔ جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 20 فیصد فیس لینے کا فیصلہ بھی واپس لے لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے وزیر اعظم علی الزیدی کے وائٹ ہاؤس پہنچنے پر ان کا استقبال کیا۔
اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا عراق کے ساتھ متعدد بڑے معاہدے کرے گا جن میں تیل کے شعبے میں تعاون کو وسعت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کے ذریعے عراق سے تیل نکالنے اور دونوں ممالک میں روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں گے۔ عراق اپنے تیل کے وسیع ذخائر کے باعث بے پناہ معاشی صلاحیت رکھتا ہے اور امریکا دونوں ممالک کے درمیان ایسے معاہدے کرے گا جن سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ عراق سے بہت زیادہ تیل نکالا جائے گا اور یہ کام زیادہ تر امریکی کمپنیاں انجام دے رہی ہیں۔ معاہدوں سے امریکا اور عراق دونوں کو اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 20 فیصد فیس واپس لے رہے ہیں۔ اور اس 20 فیصد فیس کو تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدوں سے بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خلیجی ممالک بدلے میں امریکا میں سرمایہ کاری کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی قیادت کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کے بعد فیس واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ امریکا دوبارہ جیت رہا ہے اور ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہو گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی دوبارہ بحری ناکہ بندی کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے مختلف ممالک کے رہنماؤں کی فون کالز موصول ہوئیں، اور سعودی عرب، قطر، بحرین اور یو اے ای کے رہنماوں سے گفتگو ہوئی۔ رہنماؤں نے کہا آبنائے ہرمز سے گزرنے کی فیس کے بجائے امریکا میں سرمایہ کاری کریں گے۔ خلیجی ریاستیں امریکا میں سرمایہ کاری کرنے جا رہی ہیں تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کسی کو بھی آبنائے ہرمز سے فیس وصول کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیئے۔ اور مجھے بھی آبنائے ہرمز کے استعمال پر فیس وصول کرنے کا تصور پسند نہیں ہے۔ عراق کو مدد کی ضرورت ہوئی تو امریکا موجود ہو گا۔ جبکہ میں نے ایران کو معاہدہ کر کے ایک موقع دیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز پر ایرانی جہازوں کو روکا جائے گا جبکہ دیگر ممالک کے تجارتی اور مال بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت حاصل گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ یا ایران کے بغیر آبنائے ہرمز کھلی ہے اور کھلی رہے گی۔ امریکا خطے میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور آبنائے ہرمز کے محافظ کے طور پر اپنی ذمہ داری ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز دھمکیوں سے نہیں کھلے گی، ایران کا دوٹوک اعلان
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام کارگو پر 20 فیصد معاوضہ وصول کیا جائے گا۔ اس معاوضے کا مقصد بحری راستوں کی حفاظت اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے۔
