ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی حملوں کے بعد قوم کے نام خصوصی پیغام جاری کر دیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کی جانب سے حالیہ حملوں کے بعد ایرانی عوام کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایران تاریخی طور پر استعمار کے خلاف مزاحمت کی علامت رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں صدر پزشکیان نے کہا کہ آج بھی اس خطے کے باوقار عوام دشمن کی جارحیت کے نتیجے میں پیش آنے والے مشکل حالات کو صبر، استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ عزت و وقار سے برداشت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں ان وفادار اور ثابت قدم عوام کے ساتھ کھڑا ہوں اور ان کا شکر گزار ہوں۔
در تاریخ، جنوب ایران همواره نماد مقاومت در برابر استعمار و پاسداری از استقلال بوده است. امروز نیز مردم نجیب این دیار با صبوری، ایستادگی و پایمردی، روزهای سخت ناشی از تجاوز دشمن را با عزت پشت سر میگذارند. در کنار و قدردان این مردم وفادار و مقاوم هستم.
همه جای ایران، سرای من است.— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) July 14, 2026
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایران ماضی میں بھی نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف مزاحمت کی علامت رہا ہے اور موجودہ حالات میں بھی عوام اسی جذبے کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ یا دھمکیوں کے ذریعے نہیں کھلے گی۔ امریکا کو عالمی قوانین اور ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت یا معاہدوں کی مبینہ خلاف ورزی کو قبول نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس لینے کا فیصلہ واپس لے لیا
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے ایک معاہدے کے تحت عارضی طور پر 60 روز کے لیے ٹول فری آمدورفت کی اجازت دی تھی، تاہم امریکا نے مبینہ طور پر دھوکا دہی کے ذریعے وہاں غیر قانونی راستہ بنانے کی کوشش کی، جسے ایران نے ناقابل قبول قرار دیا۔
ایران فوج کے سینئر عہدیدار بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ امریکا ایران کے حقوق کا احترام کرے۔
