مسٹر پرفیکشنسٹ کی تیسری شادی کے بعد بعض انتہا پسند ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے عامر خان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان پر منصوبہ بندی کے تحت ہندو خاندانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین سے مسلسل شادیاں کرنے کا الزام عائد کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے احتجاج کے دوران عامر خان کا پتلا بھی نذرِ آتش کیا اور ان کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے کی جانب سے بھی عامر خان کی ذاتی زندگی اور ہندو خواتین سے شادیوں پر شدید تنقید کی گئی۔
عامر خان کا پورے خاندان کو ایک جگہ رکھنے کیلئے بڑا رہائشی منصوبہ
ابھی احتجاج کا سلسلہ تھما نہ تھا اسی دوران انتہا پسند ہندو مذہبی رہنما جگدگرو پرمہنس آچاریہ نے عامر خان کو قتل کرنے والے شخص کے لیے 5 کروڑ بھارتی روپے انعام دینے کا اعلان بھی کر ڈالا۔
پرمہنس آچاریہ نے عامر خان پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص انہیں قتل کرے گا اسے 5 کروڑ روپے دیے جائیں گے، جبکہ اس کے قانونی اخراجات بھی وہ خود برداشت کریں گے۔
رپورٹس کے مطابق پرمہنس آچاریہ نے عامر خان کی ہندو خواتین سے شادیوں کو اپنے متنازع دعوؤں سے جوڑتے ہوئے اس اشتعال انگیز اعلان کو دہرایا، جس پر سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
عامر خان کی شادی اور سادگی؛ 40 ہیرے، نایاب یاقوت، اور 131 کاریگروں کی مدد سے صرف انگوٹھی بنی
تاحال اس معاملے پر عامر خان یا ان کی ٹیم کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ بھارتی پولیس نے مذکورہ بیان کے حوالے سے کوئی قانونی کارروائی شروع کی ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ عامر خان 5 جولائی کو اپنی دیرینہ دوست گوری اسپرٹ سے ایک سادہ سی تقریب میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے تھے جو ان کی رہائش گاہ میں منعقد کی گئی جب کہ اس سے قبل وہ رینا دتہ اور کرن راؤ سے بھی شادی کرچکے ہیں۔

بھارت میں ماضی میں بھی عامر خان کو مختلف سیاسی اور مذہبی تنازعات کے باعث دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے، تاہم اس نوعیت کا یہ تازہ بیان ایک نئی بحث کا سبب بن گیا ہے۔
