واشنگٹن، عراق کے وزیراعظم علی الزیدی اہم سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ان کا استقبال کیا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر ملاقات متوقع ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق وزیراعظم علی الزیدی کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عراق خطے میں امن و استحکام، سیکیورٹی تعاون اور اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اورعراق کے درمیان انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون جاری ہے، جبکہ عراق میں موجود امریکی افواج کے مستقبل، دفاعی تعاون اور سیکیورٹی سے متعلق معاملات بھی ملاقاتوں کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ترکیہ کا اعلیٰ سطحی دورہ، صدر اردوان سمیت اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم علی الزیدی کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جس سے سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت ملنے کی توقع ہے۔
امریکی اور عراقی حکام کی ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی صورتحال، مشترکہ مفادات، امن و استحکام کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا 2011 میں عراق سے اپنی فوج واپس لے گیا تھا تاہم 2014 میں شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف کارروائیوں میں عراقی فورسز کی مدد کے لیے دوبارہ فوجی موجودگی قائم کی گئی، امریکی افواج اب بھی عراق کے کردستان ریجن سمیت مختلف مقامات پر تعینات ہیں۔
